نیویارک: مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے غیر فعال ججز کی عدم بحالی پر حکمران اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی دے دی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق منگل کو حکمران اتحاد کی اعلیٰ قیادت ججز کی بحالی پر ایک بار پھر متفق نہ ہوسکی۔ اخبار کے مطابق مسلم لیگ ن کے ارکان کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو بہتر گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر غیر فعال چیف جسٹس افتخار چوہدری بحال نہ ہوئے تو وہ اتحاد سے الگ ہوجائیں گے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی یہ تجویز ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ قا ئم مقام صدر محمد میاں سومروایک آرڈیننس کے ذریعے معزول ججوں کو بحال کر دیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی رخصتی کے ساتھ ہی اتحاد ی جماعتوں نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا شروع کردی ہیں۔
رپورٹ میں معزول ججز کی بحالی میں رکاوٹ کی وجوہات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آصف زرداری اور دیگر ایسے افراد جنہوں نے این آر او کے ذریعے معافی حاصل کی ہے، ان افراد کو ڈرایا گیا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی صورت میں این آر او کو منسوخ کردیا جائے گا جبکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی مستعفی ہونا پڑے گا ۔
اس سے پہلے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس سے انٹرویو میں میاں نواز شریف نے پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کا امکان مسترد کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر نے آئین معطل اور اعلیٰ عدلیہ کو معزول کیا جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ انہیں مستقبل میں کسی نئے آمر کو مہم جوئی سے روکنے کے لئے ایک اچھی مثال قائم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں فروری میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کرتیں تو پرویز مشرف بہت پہلے چلے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں صدارت سے دلچسپی نہیں ہے تاہم آصف زرداری ملک کے نئے صدر بن سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ ماضی میں آمروں کے لئے امریکا کی حمایت ایک روایت رہی ہے۔