| آج: آج کل کیا مصروفیات ہیں؟ |
ممتاز بھٹو: میں اپنی پارٹی ،سندھ نیشنل فرنٹ کاچیئرمین ہوں اور ہماری نظریاتی پارٹی ہے۔ ہماراپروگرام ملک میں صحیح نظام رائج کرناہے تو ہم اس پر محنت کر رہے ہیں ۔لوگوں کے پاس جا رہے ہیں تاکہ ان کی حمایت حاصل کر کے ملک میں صحیح نظام رائج کرسکیں اور ملک کو چلنے اور خوشحال کرنے کا موقع فراہم کریں جو آج تک نہیں ہوا۔ |
| |
| آج: امیر بخش صاحب کیا آپ بھی اس مقصد میں شامل ہیں؟ |
| امیربخش بھٹو: جی ہاں ۔میں پارٹی کا وائس چیئرمین ہوں اور گزشتہ الیکشن میں یہاں رتو ڈیرو کے حلقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے کھڑاہواتھا اور ہماری پارٹی کی سرگرمیاں یہاں بھی ہوتی ہیں اور سارے سندھ میں ہوتی ہیں۔ |
| |
| آج: باتیں توچلتی رہیں گی آپ کچھ بچپن کی بارے میں بتائیے؟ |
| ممتاز بھٹو: میں رتوڈیرومیں پیدا یہاں ہو ا اور گاوٴں کے سندھی اسکول میں تعلیم کی ابتداء کی اور چار درجے سندھی پڑھنے کے بعدانیس سوچوالیس میں سینٹ جورجیس کالج میسوری میں داخلہ لیا پارٹیشن تک میں وہاں رہا پارٹیشن کے بعد جب میں واپس آیا تو پھرتو لارنس کالج گھوڑا گلی میں دو سال پڑھا اسکے بعد پھر انگلینڈ گیا، اسکول بھی میں نے ادھر ختم کیا آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرائسٹ چرچ کالج سے ماسٹرزکی ڈگری لی، لنکن یونیورسٹی سے بیرسٹر شپ لی اور پھر یہاں واپس آکے ہائیکورٹ میں پریکٹس بھی شروع کی ۔پھرشہید ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے سیاست میں آنے کیلئے مجبور کیااور پھر ان کے ساتھ پہلے توایوب خان کے دور میں مسلم لیگ میں شامل ہوا،اس کے بعدجب و ہ ایوب خان کی حکمرانی سے الگ ہوئے اور پیپلز پارٹی بنی تو اس کا پہلا پہلا ممبر میں تھا اور بھٹو صاحب کی قیادت میں ہم نے پارٹی بنائی۔ |
| |
| آج : آپ کی تاریخ پیدائش اوربرج کیا ہے ؟ |
| ممتاز بھٹو: تاریخ پیدائش اٹھائیس نومبر انیس سو تینتیس اوربرج قوس ہے ۔ |
| |
| آج : بچپن کا کوئی یادگار ر واقعہ؟ |
| ممتاز بھٹو: یادگار تو یہ ہے کہ بچپن سے مجھے شکار کا بہت شوق تھا۔ ہم گاوٴں کے لڑکے اکٹھے ہو کراپنے اسکول سے باہر نکلتے تھے اور کتے لے کرشکار کرنے گاوٴں کے جنگل میں چلے جاتے تھے ۔ ان دنوں میں ہم تین بھائی تھے تینوں کیلئے ایک عیسائی آیا ہوتی تھی وہ ہمارے پیچھے آتی تھی اور ہمیں اور گھسیٹ کر واپس لاتی تھی لیکن ہم پھر بھی باز نہیں آتے تھے ۔ |
| |
| آج : بچپن کی کوئی ایسی یادگار چیز جو اب تک آپ کے پاس موجود ہے؟ |
| ممتاز بھٹو: بس یہی ہے کہ یہاں پر کھیل کود اور بھاگ دوڑ کا سماں ہوتا تھا اور ہم ایک کام اور کرتے تھے کہ بڑے بڑے بکرے پالتے تھے اور ان کیلئے ایک چھوٹی سی گاڑی بنی ہوئی ہوتی تھی۔ گھوڑا گاڑی کی طرز پر ہم نے بکروں کی گاڑی بنا رکھی تھی جو یہاں کی روایت نہیں ہے نہ پہلے کسی نے کیا نہ بعد میں کیا۔ اسکا بڑھ شغل رہتا تھا بہت لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے دیکھنے کیلئے تو بس اس قسم کی حرکتیں ہوتی تھیں۔ |
| |
| آج : یعنی آپ بچپن میں شرارتی تھے ؟ |
| ممتاز بھٹو: ہر بچہ شرارتی ہوتا ہے کسی حد تک۔ |
| |
| آج : آپ بھی شرارتی تھے بچپن میں ؟ |
| امیر بخش بھٹو: یہ تو والد ہی بتا سکیں گے۔ |
| |
| آج :ممتاز صاحب آپ کچھ بتائیں امیر بخش کے بارے میں؟ |
| ممتاز بھٹو: جب میں چیف منسٹر تھا تویہ ایچی سن کالج میں پڑھا کرتے تھے ۔یہاں چھٹیوں میں جب آتے تھے تو شرارتیں کرتے تھے۔ چیف منسٹر ہاوٴس میں لوگوں کو بلاکے سوئمنگ پول کی طرف اور ان کوپانی میں دھکے دیتے تھے اور ادھر سیکورٹی کی گاڑیاں بھی ہوتی تھیں پولیس کی گاڑیاں بھی ہوتی تھیں ،تو یہ ان میں ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر سائرن بجاتے تھے۔ |
| |
| آج : آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں اور آپ کا نمبر کو ن سا ہے؟ |
| ممتاز بھٹو: اس وقت جو زندہ ہیں ،ان میں میرے دو بھائی اور چھ بہنیں ۔ |
| |
| آج : آپ کے والدین کے ساتھ کیسے تعلقات تھے اور آپ کس کے زیادہ قریب تھے؟ |
| ممتاز بھٹو: دونوں کے قریب تھا۔ اپنے والد صاحب کے ساتھ بہت زیادہ چلتا پھرتااورسفر کرتا تھا۔ وہ ان دنوں دلی لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر تھے ۔ انیس سو پینتیس سے وہ منتخب ہوتے آئے تھے۔ جب میں سات آٹھ سال کا ہو ا تووہ مجھے ہر جگہ جہاں بھی جاتے تھے خاص کرکے اسمبلی سیشن میں ساتھ ہی لے جاتے تھے۔ |
| |
| آج : گیارہ سال جو آپ اپنے والد کے ساتھ رہے اس کا آپ کی کردار سازی پر اچھا اثر پڑاہو گا؟ |
| ممتاز بھٹو : جی ہا ں ۔وہ دہلی،آگرہ، صوری، شملہ ،سری نگرجہاں بھی جاتے تھے ،جہاں بھی وہ گھومتے پھرتے تھے تو میں ساتھ ہوتا تھاتو کافی گھومنے پھرنے کا تجربہ بھی ہوااور ملک بھی دیکھا۔ |
| |
| آج : دادی اورداداسے وابستہ کچھ یادہے؟ |
| ممتاز بھٹو: میر ے دادا کا اٹھائیس سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔ |
| |
| آج : بڑوں کے ساتھ اگرکوئی شرارت کرتے تھے تو اسکے نتیجے میں ڈانٹ پڑنایا پٹائی ایسی کوئی بات ہوئی کبھی؟ |
| ممتاز بھٹو: ہاں ہوتی تھی۔پرخاص نہیں معمولی ڈانٹ پڑتی تھی۔ |
| |
| |
 |
| |
| آج : کچھ آپ کی اسٹوڈنٹ لائف پر بات کرتے ہیں ۔ زمانہ طالب علمی کیسا گزرا؟ |
| ممتاز بھٹو: میں نے کافی خوشگوار ماحول میں اسٹوڈنٹ لائف گزری۔میرے اکیڈمک رزلٹ بھی کافی اچھے آتے تھے۔ابتدائی چارمیں میرا شمار ہوتا تھا اورمیں کھیلوں میں بھی آگے تھا۔ہاکی بھی کھیلی اورکرکٹ بھی کھیلتا تھا۔جب میں لندن کے اسکول میں تھا تووہاں ریجن پارک کے قریب ایک ٹیٹوریل کالج تھا ۔ادھر ایک میچ آرمی کی ٹیم سے ہوا تھا اس میچ میں میں نے نو وکٹیں لی تھیں،میں آف بریک بال کرتا تھا۔اس کے بعد اسکول میں مجھے بڑا اعزاز ملا اور ایوارڈز ملے۔ |
| |
| آج :یعنی اچھے اسپورٹس مین تھے ؟ |
| ممتاز بھٹو: ٹھیک تھا ۔ |
| |
| آج : ٹیچر زسے کبھی مار پڑی؟ |
| ممتاز بھٹو : نہیں مار نہیں ڈانٹ پڑتی تھی ۔مار کبھی نہیں پڑی۔ |
| |
| آج : اسکول سے بھاگے کبھی؟ |
| ممتاز بھٹو : گاوٴں کے اسکول سے تو بھاگ جاتے تھے لیکن بعد میں نہیں ۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب آپ بھاگے اسکول سے کبھی؟ |
| امیر بخش بھٹو : جی ہاں ، کافی دفعہ لاہور میں ہمارے کالج کے پاس ایک نیا ریسٹورنٹ کھلا تھا تو رات کو جب لائٹس بندہو جاتی تھیں اورسب سو جاتے تھے تو اس کے بعد ہم چھپ کے وہاں سے نکل جاتے تھے ۔چوکیدارکو تھوڑے پیسے دے دیتے تھے ۔ باہرجا کر کھانا کھاتے تھے مووی وغیرہ دیکھ کہ واپس آجاتے تھے ۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہاوٴس ماسٹر نے ہمیں کبھی پکڑا نہیں ۔ |
| |
| آج : اسکول یا کالج کی ایسی چیز جو آپ کے پاس یادگار کے طور پر ابھی موجود ہو ؟ |
| ممتاز بھٹو : بیجز وغیرہ ہیں اورکپ ہیں جو ان دنوں ایتھلیٹکس میں جیتے تھے ۔ |
| |
| آج :آپ کو کونسا کھیل زیادہ پسند تھا؟ |
| ممتاز بھٹو : کرکٹ میں زیادہ کھیلتا تھا لیکن ہاکی بھی کھیلتا تھا۔ |
| |
| آج : آپ لاڑکانہ میں پلے بڑھے پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ گئے تو اس ماحول میں اپنے آپ کو کیسے ایڈجسٹ کیا ؟ |
| ممتاز بھٹو: شروع میں کچھ مشکلات ہوئیں کیونکہ یہاں اور وہاں کے حالات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ یہاں سے ہمارے والد صاحب نے جس اسکول کا بندوبست کیا وہ اسکول تو تھا ہی نہیں ادھر ایک دو ٹیچر تھے ان کا بہت بڑا گھر تھا اس گھر میں انہوں نے کمرہ بنایا ہوا تھا وہاں لیکچرز ہوتے تھے لیکن اکثر تو وہ ہمیں گھماتے پھراتے تھے تعلیم تو کوئی تھی نہیں۔ پھرہم تینوں بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ ایسے تو کام نہیں چلے گا۔پھر ہم نے خود لندن میں ایک اسکول تلاش کرکے وہاں ٹرانسفر کرایا اور پھر وہاں سے تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھے۔ |
| |
| آج : آکسفورڈ میں رہتے ہوئے آپ کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی؟ |
| ممتاز بھٹو :بہت۔۔آکسفورڈ نے میری زندگی میں نمایا ں کردارادا کیا اوروہیں میری شخصیت نے نیا رخ اختیار کیا۔ وہاں تعلیم حاصل کرنا بہت بڑی بات ہے وہ دنیا کی اولین یونیورسٹی ہے اور وہاں کا اکیڈمک ماحول ،وہاں کا سوشل ماحول ایسا ہے جیسے کوئی انسان پک کے نکلتا ہے،اکثر زندگی میں آکسفورڈ کے گریجویٹ بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو بھی وہاں کے گریجویٹ تھے اور وہاں جو میرا کالج تھا کرائسٹ چرچ تھاکرائسٹ چرچ سے کوئی دس یا گیارہ انگلینڈ کے وزیر اعظم بنے ہیں اور کوئی دس بارہ انڈیا کے وائس رائیزرہے۔ |
| |
| آج: اب آپ کے اصل میدان سیاست کی طرف آتے ہیں ۔ سیاست میں کیسے آئے اپنے اجداد کی پیروی کی یا آپ کا اپنا شوق تھا؟ |
ممتا زبھٹو : نہیں مجھے شوق نہیں تھا ،میں تو بیرسٹر تھا اور میں نے کراچی میں وکالت شروع کی تھی۔ ان دنوں بھٹو صاحب ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ تھے، انہوں نے مجھے مجبور کیا کیونکہ انہیں بھروسے کا ایک آدمی چاہئے تھا جو ان کی مدد کرسکے تو انہوں نے مجھے کہالیکن میں سیاست میں نہیں جانا چاہتا تھا پھر انہوں نے میرے والد صاحب کو کہا اور مجھ پر بہت دباوٴ ڈالاحالانکہ میں نے یہ بھی کوشش کی کہ یہاں سے بھاگ کر واپس انگلینڈ جاوٴں وہاں پروکیلوں کی ایک کمپنی تھی جس میں مجھے پارٹنر شپ مل گئی تھی ،میں ملک چھوڑ کر وہاں بھی جانے کا سوچ رہا تھالیکن سب کچھ انہوں نے نہیں ہونے دیا اور پھر میں لاڑکانہ میں بیٹھا رہا۔میں لاڑکانہ میں پارٹی کاصدر تھااور کیونکہ لاڑکانہ میراحلقہ تھا تو میں اس کو سنبھالتا رہاپھرانیس سو پینسٹھ کے الیکشن آگئے اور اس میں بلا مقابلہ منتخب ہو گیا۔ |
| |
| آج : اگر ایک جملے میں کہا جائے کہ آپ کو سیاست میں بھٹو لائے تھے؟ |
| ممتاز بھٹو : لائے نہیں تھے بلکہ گھسیٹ کر لائے تھے میں نہیں آنا چاہتا تھا۔ |
| |
| آج : سیاست کا میدان مشکل رہا یا ایک اچھا تجربہ رہا؟ |
| ممتاز بھٹو : نہیں جی بہت مشکل تھا ۔میری زندگی سیاست میں بھر پورجدوجہدمیں گزری۔ ان دنوں جب ایوب خان کی کابینہ سے بھٹو صاحب نکلے تو اسکے بعد اصل سیاست شروع ہوئی۔ پہلے ہم سرکاری نشستوں پہ بیٹھ کرسنتے تھے توکچھ نہیں ہوتا تھا ۔ اس میں کوئی نمایا ں کردار یا کوئی منزل نہیں تھی لیکن جب ایوب خان سے اختلاف ہوئے تو بھٹو صاحب باہر نکلے اور اپنی پارٹی بنانے کی کوشش کی ۔اس مشکل وقت میں ہم صرف دو تھے باقی سب وڈیرے ، پیر وغیرہ منسٹری کے دور میں جو بھٹو صاحب کے قدموں میں پڑے رہتے تھے اور اندر آنے کیلئے دروازے توڑتے تھے سب بھاگ گئے کوئی میدان میں نہیں تھا ۔اس وقت ہم صرف دو تھے وہاں سے جدوجہدشروع کی ۔ ایوب خان سب سے زبردست ڈکٹیٹر تھے اور ان کا ملک پرپورا کنٹرول تھا ۔ان کی اجارہ داری برداشت کرنی پڑی ۔یہاں پولیس افسران لگائے گئے جن کا کام یہی تھا کہ ان کو ختم کرو ۔ہمارے لوگ جیلوں میں ڈال دیئے گئے، ہماری زمینداری میں مداخلت کی گئی ، ہمارے والدین کو تنگ کیا گیا۔ہمارے ساتھی ، ملازم ، کاشتکار کرنے والے کو درجنوں کی تعدا د میں جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا ، اس وقت ان مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا اور پارٹی بھی بنانی پڑی۔ |
| |
| آج : تو گویا یہ مشکل وقت تھا آپ کیلئے؟ |
| ممتازبھٹو : جی بالکل بہت مشکل وقت تھا مگر خدا کاشکر ہے کہ ہم نے عزت اور ہمت سے سامنا کرکے گزارا۔ |
| |
| آج : سیاست کے اندرکوئی ایسا واقعہ جو اب تک بھلا نہ سکے ہوں ؟ |
| ممتاز بھٹو : ایوب خان نے قاضی فضل اللہ کوسندھ میں منسٹر بنایا تھا تب موجودہ پاکستان مغربی پاکستان تھا ۔ان کا مینڈیٹ یہ تھا کہ بھٹو خاندان کوختم کرواور انہوں نے اپنی مرضی کے ایسے افسران مقرر کئے جو رات دن ہمارے خلاف کارروائیاں کرتے تھے ۔ انہوں نے یہاں عبدالرب نام کا ایک ایس پی لگایا تھاجو ہمارے خلاف ایسے کارروائی کرتا تھا جیسے کوئی جنگ ہوتی ہے ۔ اس نے ہمارے درجنوں لوگ گرفتار کئے اور پھر وہ مجھے فون کرکے ہنستا تھا اور کہتا تھا کہ میں نے تمہارے ساتھی پکڑے ہیں ان کوجیلوں میں ڈالاہے اور میں اسے گالیاں دیتا تھا تو وہ اپنی کارروائی اور بھی تیز کردیتا تھا لیکن ہم نے پھر بھی مقابلہ کیا ، جھکے نہیں ، پیچھے نہیں ہٹے اور آخر یہ ہوا کہ وہ خود ایک پولیس افسر کے قتل کیس میں پھنس گیا اور اس قتل کیس کو چھپا نہیں سکا اور آخر اس نے خود کشی کرکے اپنی جان چھڑائی۔ |
| |
| آج : اس مشکل وقت میں فیملی نے آپ کا کتنا ساتھ دیا ؟ |
| ممتاز بھٹو : فیملی نے بھر پور ساتھ دیا ۔میرے والد صاحب بہت مذہبی اور شریف آدمی تھے جب وہ سیاست سے ریٹائرڈ ہوئے تو انہوں نے سار ا وقت عبادت میں گزار ا۔وہ بہت نرم دل انسان تھے لیکن وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے بہت مضبوط آدمی تھے۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب آپ کو بھی سیاست میں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟ |
| امیر بخش بھٹو : جی نہیں میں جس ماحول میں سیاست میں آیا والدصاحب کی بہ نسبت وہ بہت مختلف تھا ۔ جب میں سات آٹھ سال کا تھا تو میرے والد گورنر منتخب ہوئے اور مجھے اسی وقت سیاست کا شوق چڑھا۔ میری پرورش اور تعلیم اسی طریقے سے ہوئی ہے اور مجھے سکھا یا گیا ہے کہ فیملی کی ذمہ داری جاری رکھنی ہے اور جو ذمہ داری ہمارے کاندھوں پہ ہے اسے صحیح طریقے سے نبھانا ہے۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب سیاست میں پہلے آپ کے والد رہے پھر آپ رہے اور اب یہ ایک نیا خون تو اب آپ سیاست میں کیا فرق دیکھتے ہیں ؟ |
| امیر بخش بھٹو : سیاست اب ایک گندی چیز بن گئی ہے ۔سیاست کا مقصد عبادت کے برابر ہے ۔سیاست کا اصل نچوڑ عوام کی ،ملک کی،اپنی سرزمین کی خدمت کرنا ہے لیکن اب کوئی نظریہ نہیں رہا ،کوئی اصول نہیں رہا آجکل کی سیاست صرف خود غرضی اور مفاد پرستی پرمبنی ہے۔ |
| |
| آج : ممتاز بھٹو صاحب اس بات سے آپ اتفاق کرتے ہیں ؟ |
| ممتاز بھٹو : جی ہا ں بالکل ۔۔جب ہم سیاست کے میدان میں آئے تھے تو بھٹو صاحب نے ایک نظریہ دیا، ایک پروگرام دیا اور وہ پروگرام ہم لوگوں کے پاس لے کر گئے اور اس پروگرام کی بناء پر بھٹو صاحب نے ایک ڈکٹیٹر کو ہٹایا دوسرے ڈکٹیٹر کو ہٹایا اور آخر خود عوام کی طاقت سے انکے کاندھوں میں چڑھ کر اقتدار میں آئے اس سیاست میں تو کچھ اور ہی لطف تھا۔ |
| |
| آج : آپ کو کونسا سیاست دان پسند ہے ایک جملے میں بتائیں؟ |
| ممتاز بھٹو : ذوالفقار علی بھٹو۔ |
| |
| آج :بھٹو صاحب سے آپ کے کیسے تعلقات تھے؟ |
| ممتاز بھٹو : بالکل ٹھیک تھے ۔ بھٹو صاحب مجھے چھوٹے بھائی کی طرح پیا ر کر تے تھے انہیں پتہ تھا کہ میں آخر دم تک ان کے ساتھ رہوں گا اور کبھی دھوکا نہیں دوں گا۔میں کہیں بھی ہوں بھٹو صاحب ہر مشکل وقت میں میری تلاش کرتے تھے۔ |
| |
| آج : بھٹو صاحب کی ذات کا کونسا پہلو آپ کا پسندیدہ ہے؟ |
| ممتاز بھٹو :ان کا جو ذہن تھا وہ میرا پسندیدہ پہلو ہے۔ اس قسم کے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کی جو سیاسی سوچ تھی وہ بہت اچھی تھی۔بھٹو صاحب کی باتیں بیٹھنے والوں پرجادو کردیتی تھیں ۔ |
| |
| آج :سنا ہے بھٹو صاحب نے وزارت مواصلات آپکی مرضی کے برخلاف سونپ دی تھی؟ |
| ممتاز بھٹو :نہیں برخلاف تو نہیں تھی ۔ جب میں الگ ہوا چیف منسٹری سے تو انہو ں نے مجھے اسلام آباد بلاکر کہا کہ میں تمہیں وزیر مواصلات بنا رہا ہوں تو میں نے کہا کہ کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ عہدہ تو وہ خود سنبھالتے تھے تو میں نے کہا کہ آپ سے زیادہ بہتر کون سنبھال سکتا ہے میں نہیں بنوں گا۔میرے ساتھ حفیظ پیرزادہ ،میرے بڑی بھائی اور دوسرے بھی لوگ تھے، میں نے انکار کردیا اور میں آٹھ نو مہینے حکومت سے باہر رہا۔ |
| |
| آج : سندھ کے وزیر اعلیٰ اور گورنر کی حیثیت سے آپ نے ایسی کیا تبدیلیاں کیں یا کوئی ایسی قانون سازی کی جس سے سندھ کی عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی؟ |
| ممتاز بھٹو : بہت زیادہ تبدیلی آئی ۔ہم نے تو پہلے دن سے ہی سندھ کی تعمیر و ترقی کا کام شروع کر دیا تھا ۔ پہلے تو سندھ میں کچھ نہیں تھا سندھ اور بلوچستان میں کوئی فرق نہیں تھاوہاں کوئی ڈیولپمنٹ نہیں ہوتی تھی اگر کچھ ہوتی بھی تھی تو کراچی میں ہوتی تھی ۔اندرون سندھ تو جنگل اور ریگستان تھا لیکن ادھر ہم نے راتوں رات راستے بنائے، اسکول بنائے،اسپتال بنائے ، پانی ، بجلی پہنچائی ۔ہم نے ایسا کام شروع کیا کہ لوگ حیران ہوگئے کہ یہ کیسے ہوا اور کون کر رہا ہے۔ اس وقت جو تعمیر و ترقی کا کام ہوا اس پر تو کمال اظفر نے ایک کتاب بھی لکھی ہے اگر آپ کو موقع ملے تو وہ کتاب ضروردیکھئے گا۔ |
| |
| آج :ڈیہیسرسندھ کے خطاب کا کیا واقعہ ہے؟ |
| ممتاز بھٹو : ان دنوں جو میں نے لینگویج بل پاس کیا تھااس میں جو اردو بولنے والے تھے بڑی غلط فہمیوں کا شکار ہو گئے اور بہت تلخی پیدا ہوئی تھی۔ان دنوں میں عثمان کینیڈی نام کا ایک ایم پی اے تھا ۔ اس نے اخبار میں ایک بیان دیا تھا کہ ہم ان کویعنی مجھے ماریں گے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس دھمکی کی مجھے پرواہ نہیں تھی تو میں نے اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ یہ تو ایک سر ہے اگر دس سر ہوتے تو وہ بھی میں سندھ میں قربان کر دیتا۔تو اگلے دن اخبارات میں میرے لئے ڈیہیسرسندھ کے الفاظ استعمال ہوئے۔ |
| |
| آج : آپ انیس سو چوراسی میں لند ن چلے گئے وہاں پر سندھ، بلوچ ، پشتون فیڈریشن کی بنیاد ڈالی یہ جماعت کیوں نہ قائم رہ سکی؟ |
| ممتاز بھٹو :اس جماعت کا بنیادی مطالبہ توایک تھا لیکن صوبوں کے مسائل مختلف تھے ،اس لئے یہ قائم نہ رہ سکی۔ |
| |
| آج: اس کو یکجا کرنے کی کیا وجہ تھی؟ |
| ممتاز بھٹو : وجہ یہ تھی کہ تینوں کا مطالبہ یہ تھا کہ ہمیں اپنے حقوق دو، انصاف کرو،ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو پھر ہم نے ایک پلیٹ فارم بنانے کی بھی کوشش کی لیکن وہ نہیں بن سکا کیونکہ ہر ایک کا مطالبہ تو ایک ہی تھا لیکن مسائل الگ الگ تھے۔ |
| |
| آج : پیپلز پارٹی سے الگ کیوں ہوئے؟ |
| ممتاز بھٹو : وہ اسی نکتے پر کہ شہید بے نظیر بھٹو نے فیصلہ کیا کہ اب کسی بھی طریقے سے اقتدار میں آنا ہے ۔کوئی بھی سمجھوتا کیوں نہ کرنا پڑے ، کسی کے پاس بھی جانا پڑے ، کس کے سامنے بھی جھکنا پڑے، کسی کو ساتھ لینا پڑے لیکن ہمیں ہر صورت اقتدار میں آنا ہے۔ |
| |
| آج : سندھ نیشنل فرنٹ عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کرسکی اس کی کیا وجہ ہے؟ |
| ممتا ز بھٹو : اس لئے کہ یہ ایک نظریاتی پارٹی ہے اور جونظریاتی تنظیمیں ہوتی ہیں انکو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب سندھ نیشنل فرنٹ کو آگے کیسے لے کر چلنا ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ میدان ٹھیک نہیں ہے تو آپ اسکو چھوڑ دیں گے یاپھر آپ اسی پر ہی اتفاق کرتے ہیں؟ |
امیر بخش بھٹو : نہیں چھوڑنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا ہم اپنے نظرئیے اور اصولوں پر قائم ہیں۔ |
| |
| آج :عام زندگی میں کس طرح کے انسان ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : میں تو سمجھتا ہوں کہ بالکل نارمل ہوں جیسا کہ انسان ہوتے ہیں۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب آپ نے والد کو کیسے پایا؟ |
| امیر بخش بھٹو :جی بہت اچھا ۔ان کی چھاوٴں میں بہت اچھی پرورش ملی ہے ، بہت اچھی گھریلوزندگی ملی ہے۔ جب ضرورت پڑتی ہے سختی بھی کرتے ہیں اور پیار بھی کرتے ہیں جیسے ہونا چاہئے۔ |
| |
| آج : ممتاز بھٹو صاحب آپ ان کو اب بھی ڈانٹتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : نہیں اب نہیں ڈانٹتا ۔ڈر لگتا ہے یہ مجھ سے زیادہ موٹاہے۔(ہنستے ہوئے) |
| |
| آج : ممتاز بھٹو صاحب آپ ان کو اب بھی ڈانٹتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : نہیں اب نہیں ڈانٹتا ۔ڈر لگتا ہے یہ مجھ سے زیادہ موٹاہے۔(ہنستے ہوئے) |
| |
| آج :بیوی بچوں کے ساتھ آپ کا رویہ کیسا ہے ؟ |
| ممتاز بھٹو : ہماری فیملی میں بڑا خوشگوار ماحول ہے ۔میں سمجھتا ہوں ایک دوسرے کے ساتھ جوپیار اور محبت ہے وہ مثالی ہے۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب آپ کو اپنے والد کی کون سی عادت پسند اور ناپسند ہے یہ آپ کو ان کے سامنے بتانا پڑے گا؟ |
| امیر بخش بھٹو : اگر کوئی آدمی کسی کو اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے تو اس میں ناپسندیدگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ |
| |
| آج : کون سی اولا د سے زیادہ محبت کرتے ہیں ؟ |
| ممتاز بھٹو : میرے لئے ساری اولادیں برابر ہیں ۔سب سے ایک جیسا ہی پیار کرتا ہوں۔ |
| |
| آج : کس سے اپنی بات شیئر کرتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : لڑکیوں کی تو شادی ہو گئی ہے وہ دوسرے گھروں میں ہے تو بیٹوں سے ہی شیئر کرتا ہوں۔ |
| |
| آج : بیٹوں میں کس کو فوقیت حاصل ہے کہ جس سے زیادہ مشورہ کرتے ہوں؟ |
| ممتاز بھٹو : جو بڑا ہے وہ بڑا ہے اور جو چھوٹا ہے وہ چھوٹا ہے۔ |
| |
| آج : لباس کس طرح کا پسند کرتے ہیں ؟ |
| ممتاز بھٹو : میں سوٹ بھی پہنتا ہوں اور شلوار قمیص بھی ۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب ممتاز بھٹو نے آپ کو کتنی آزادی دی ہے؟ |
| امیر بخش بھٹو : مکمل آزدی دی ہے ۔ میرے والد نے مجھ پرکبھی روک ٹوک نہیں کی۔انہوں نے میرے کیرئیر میں بھی مکمل آزادی دی تھی اور ذاتی زندگی میں بھی لیکن مشور ہ اور ہدایت ضرور دیتے ہیں۔ |
| |
| آج : کوکھانے میں کیا پسند ہے؟ |
| ممتاز بھٹو :دال۔ |
| |
| آج : اور امیر بخش صاحب آپ کو؟ |
| امیر بخش بھٹو : پاکستانی کھانا زیادہ پسند ہے ۔ چٹ پٹاکھانا اوربہت مرچ مصالحے والی چیز اچھی لگتی ہے۔ |
| |
| آج : آپ ملک سے باہر رہے ہیں توغیر ملکی کھانوں کا بھی آپ کویقینا شوق رہا ہو گا ؟ |
| ممتاز بھٹو : مجھے اطالوی کھانا زیادہ پسند ہے۔ |
| |
| آج : توپزاآپ شوق سے کھاتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : ہاں پزابھی کھاتا ہوں،پاستا بھی کھاتا ہوں۔ |
| |
| آج : خودبھی کبھی پکاتے ہیں ؟ |
| ممتاز بھٹو : جی ہاں میں جیل میں نے جیل میں کھاناپکانا سیکھا ہے۔ پہلے پہلے میں ساہیوال جیل میں گیا ایوب خان کے وقت میں تو ہمیں بی کلاس دیا گیا۔بی کلاس میں جوقیدی کھاناپکانے پرمامورتھاوہ بالکل اناڑی تھا اس کوتو کچھ پکانا نہیں آتا تھا تو اس کیلئے بھی اپنے لئے بھی میں پکاتا تھا اور وہاں سے میں سیکھا۔ |
| |
| آج : کبھی آپ کو کوئی ڈش بنا کے کھلائی آپ کے والد نے ؟ |
| امیر بخش بھٹو : جی ہاں کافی دفعہ لیکن یہاں نہیں جب ہم لندن میں یا کبھی دوسرے ملک میں ہوتے ہیں تب بنا کے کھلاتے ہیں۔ |
| |
| آج : ستاروں پر یقین رکھتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : نہیں ستاروں پر یقین نہیں رکھتا۔ |
| |
| |
 |
| |
| آج : اور امیر بخش صاحب آپ؟ |
| امیر بخش صاحب : نہیں جی ۔میں بھی نہیں رکھتا۔ |
| |
| آج : پریشان ہوں تو کیا کرتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : کتاب پڑھتا ہوں یا ٹی وی دیکھتا ہوں۔ |
| |
| آج : اور امیر بخش صاحب آپ پریشانی کی حالت میں کیا کرتے ہیں؟ |
| امیر بخش صاحب : پریشان ہوتا ہوں اور کیا کرتا ہوں۔ہنستے ہوئے |
| |
| آج : زندگی میں کوئی ایسی چیز جس کے نہ کرنے کا افسوس ہو؟ |
| ممتاز بھٹو : جی ہاں ۔۔وہ یہ ہے کہ ہم بھٹو صاحب کی جان نہیں بچا سکے۔ اس کا بہت افسوس ہے،بڑا دکھ ہے۔ |
| |
| آج : اور امیر بخش صاحب آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : عشق کے بغیر تو زندگی جینے کے لائق نہیں رہتی۔ |
| |
| آج : شادی ارینج تھی یامحبت کی ؟ |
| ممتاز بھٹو : پہلی شادی ارینج تھی اور دوسری میں نے اپنی مرضی سے کی ۔ |
| |
| آج : کس طرح کی موسیقی پسند کرتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : میں ہر قسم کی موسیقی پسند کرتا ہوں۔کلاسک بھی پسند ہے ، پاپ روک اینڈرول بھی پسندہے، صوفیانہ کلام جو سندھ میں ہوتا ہے اس کا مجھے بہت شوق ہے۔ |
| |
| آج : فلمیں دیکھتے ہیں ؟ |
| ممتاز بھٹو : فلمیں دیکھتاہوں لیکن میں انگلش فلم زیادہ دیکھتاہوں۔ |
| |
| آج : انڈین فلمیں نہیں دیکھتے؟ |
| ممتاز بھٹو : نہیں وہ نہیں دیکھتا۔ |
| |
| آج : کون سا اداکار آپ کو زیادہ پسند ہے؟ |
| ممتاز بھٹو :ہیری سن فورڈاورجارج کلونی ۔ |
| |
| آج : اپنی جوانی کے وقت کونسا اداکا ر زیادہ پسندتھا؟ |
| ممتاز بھٹو : ایواگارڈنر بہت پسند تھی۔ |
| |
| آج : کس ہیروئن کی سحر میں مبتلا رہے ؟ |
| ممتاز بھٹو : ایواگارڈنر۔ |
| |
| آج : کتابیں کس طرح کی پسند ہیں ؟ |
| ممتاز بھٹو : میں زیادہ تر تاریخ ، سیاست، فلسفے کی کتابیں پڑھتا ہوں ، فکشن بھی پڑھتا ہوں۔ |
| |
| آج : پسندیدہ مصنف کون ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : ریمنڈ شیلڈن ہے۔ اس نے صرف آٹھ کتابیں لکھیں۔ وہ ڈیٹیک ٹیو کہانیاں ہوتی ہیں، کرائم ناولز وہ میں پڑھتا ہوں۔ |
| |
| آج : امیر بخش صاحب آپ نے آخری فلم کون سی دیکھی؟ |
| امیر بخش بھٹو : انگلش فلم دیکھی تھی اسکا نام فلا لیس ہے۔ |
| |
| آج : ایسی جگہ جہاں جانے کو ہر وقت تیار رہتے ہوں؟ |
| ممتاز بھٹو : یورپ۔ |
| |
| آج : آپ کو شکار پسند ہے کس قسم کا شکار کرتے ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : اب تو میں کتوں کے ساتھ شکار کرتاہوں۔ کور سنگ جسے کہتے ہیں موروائلڈ۔ |
| |
| آج : جانور کونسا پسند ہے اور آپ کے پاس کون کون سے جانور ہیں؟ |
| ممتاز بھٹو : ہمارے پاس ہرن ، پاڑے، پرندے ،کبوتر اورطوطے ہیں۔ |
| |
| آج: کس چیز سے خوف آتا ہے ؟ |
| ممتاز بھٹو : اللہ تعالیٰ سے ۔ |
| |
| آج : مستقبل سے متعلق اب کیا پلا ننگ ہے ؟سیاست میں رہنے کاارادہ ہے یا ریٹائرڈہوجائیں گے؟ |
| ممتاز بھٹو : سیاست تو ہماری نسوں میں بہہ رہی ہے اور کوئی پیشہ ہم جانتے نہیں ہے حالانکہ میں بیرسٹر ہوں لیکن پھر بھی سیاست کرنی پڑی ہمارا جو موقف ہے جو نظریہ ہے اسکو تو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔نہ کسی سودے بازی میں پہلے آئے ہیں نہ اب آئیں گے لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ لوگوں نے مینڈیٹ دیاہے اس مینڈیٹ کا احترام ہمیں ہر حال میں کرنا ہے اور ہم اسکو چیلنج نہیں کر سکتے لیکن ہم منتظر ہیں کہ یہاں جو ناقابل برداشت مصیبتوں میں عوام مبتلا ہے جیسے بدامنی، رشوت خوری، بیروزگاری، مہنگائی، بجلی نہیں ہے پانی نہیں ہے ،ان کا خاتمہ کیا جائے۔ |
| |
| |
 |
| |
| آج : آپ نے تمام زندگی جدوجہد کی اس حوالے سے کچھ لکھنے کا ارداہ ہے ؟ |
ممتاز بھٹو : لکھ تو رہاں ہوں ۔ |
| |
| آج : بہت شکریہ آپ کا ممتاز بھٹو صاحب اور امیر بخش صاحب آپ کا بھی۔ اللہ نگہبان |
 |
| |