| آج : السلام وعلیکم |
| نادر علی مگسی : وعلیکم السلام |
| |
| آج : کیسے مزاج ہیں ؟ |
| نادر علی مگسی : اللہ کی مہربانی ہے ٹھیک ٹھاک بالکل۔ |
| |
| آج : عامر مگسی صاحب آپ کیسے ہیں؟ |
| عامر مگسی : بالکل ٹھیک۔ |
| |
| آج : مگسی قبیلے کی تاریخ کے بارے میں کچھ بتائیں؟ |
نادر علی مگسی : مگسی قبیلہ بڑا پرانا قبیلہ ہے اور دراصل یہ یہاں کا نہیں ہے ، بلوچ لوگ سب باہر سے آئے تھے اور یہ مگسی لاشار سے نکلتا ہے ۔ جس علاقے میں اب مگسی آباد ہیں پہلے یہ مگسی ایریا نہیں تھا ،دوسروں کاعلاقہ تھا ۔یہاں جنگ ہوئی تھی جنگ کے بعد ان کو یہ علاقہ ملا ۔ لوگ تو پہلے کے ہیں بارڈرز بعد میں بنائے گئے اس وجہ سے ہماری وابستگی سندھ میں بھی ہے اور بلوچستان میں بھی ۔مگسی کا اصل خطہ بلوچستان میں ہے جوکہ سندھ کے بارڈر سے ملتا ہے ۔سب وہاں سے آکر ہی آباد ہوئے ہیں۔ اب جو سندھ میں مگسی رہتے ہیں وہ سندھی بولتے ہیں۔ |
| |
| آج : کتنی نسلوں سے آپ لوگ سیاست میں سرگرم ہیں ؟ |
عامر خان مگسی : سب سے پہلے تو میں یہ بتادوں کہ میں تاریخ سے میں بہت واسطہ رکھتا ہوں اور میں نے کافی تحقیقی کی ہے ۔ یہ ہماری تیسری نسل ہے سب سے پہلے جو سیاست میں شامل ہوئے تھے وہ نواب یوسف علی خان مگسی تھے۔ انیس سو بیس میں انہوں نے فرسٹ بلوچ کانفرنس جیکب آباد میں منعقدکروائی تھی ۔ اتفاق سے ان کی زندگی اتنی نہیں رہی اس وجہ سے تاریخ میں ان کا نام کچھ کم نظر آتا ہے لیکن ابھی بھی آپ بلوچستان کانصاب اٹھائیں تو سیکنڈری کلاسز میں ان کا باقاعدہ تبصر ہ کیا جا تا ہے ۔ وہ انیس سو پینتیس میں زلزلے کی وجہ سے انتقال کر گئے ، نواب یوسف علی خان مگسی بہت مشہور تھے ،انہوں نے انگلینڈ میں دس سال اپنے والد نواب قیصر خان کے ساتھ جلا وطنی گزاری ۔جب ان کو سندھ اور بلوچستان سے جلا وطن کیا گیا تو وہ ملتان میں رہے اورپھر ملتان میں ہی وفات پائی ۔ان کا قبرستان غوث الاعظم کے ساتھ ملتان ہی میں ہے ۔ |
| |
| آج : کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ |
| نادر خان مگسی : کراچی میں انیس سو اٹھاون میں پیداہوا ۔ |
| |
| آج : میر عامر خان مگسی آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ |
| عامر خان مگسی : لاہور میں انیس سو ساٹھ میں پیدا ہوا ۔ |
| |
| آج : آپ بچپن میں کیسے تھے لڑاکوتھے ، سنجیدہ تھے یا پھر شرارتی ؟ |
| نادر خان مگسی : نہیں میں لڑاکو نہیں تھا لڑاکو یہ تھے عامر خان مگسی۔ |
| |
| آج : عامر مگسی صاحب آپ بھی سنجیدہ ہی تھے ؟ |
عامر خان مگسی : میں تھوڑا سا تیز ہوتا تھا لیکن لڑائی سے دور ہی رہتا تھا ۔ نادر خان مگسی بہت بڑے ایتھلیٹ تھے یہ زیادہ کچھ اپنا تعارف نہیں کرارہے اور نہ بتارہے ہیں۔ ایچی سن کالج میں ابھی بھی ان کے لئے گولڈن ورڈز”دی بیسٹ ایتھلیٹ آف دی تھری ایئرز“ لکھے ہیں ۔ نادر خان صاحب سوئمنگ میں ہر معاملے میں جو بھی کھیل کو د کے مقابلے ہوتے تھے یہ بہت اچھے ایتھلیٹ تھے۔میں بہت اچھا سوئمر تھا ، میں بہت اچھا فٹ بال کھلاڑی تھا ،ہم سب بھائی ایچی سن کالج میں ہی پڑے۔ایچی سن کالج کے بعد پھر میں ایف سی کالج میں گیا پھر اس کے بعد ہم لوگوں نے جا کے بیچلرز کیا ۔ |
| |
| آج : آپ دونوں کی بچپن میں لڑائی ہوتی تھی ؟ |
| نادر خان مگسی : ہاں کبھی کبھی ہوتی تھی۔ |
| |
| آج : تو کو ن جیتتاتھا؟ |
| ناد ر خان مگسی : چھوٹا بھائی یہ ہے تو مجھ پر یہی جیتتاتھا ۔ |
| |
| |
| عامر خان مگسی : شرارت میں زیادہ کرتا تھا، ہم لوگوں کو گاڑیوں کا شوق ہوتا تھا کبھی کبھی ایکسیڈنٹ کرتا تھا تو بڑے بھائی کہتے تھے کہ تم گاڑی کو بھی نقصان پہنچا رہے ہو اور اپنے آپ کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہو۔ |
| |
| آج : آپ لوگ کتنے بہن بھائی ہیں ؟ |
| عامر خان مگسی : ہم سات بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ |
| |
| |
 |
| |
| آج : سب سیاست میں ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : سب نہیں ہیں۔ |
| |
| |
| عامر خان مگسی : دو بھائی اکبر اور ظفر نہیں ہے باقی پانچ بھائی سیاست میں ہی ہیں۔ |
| |
| آج : ان دونوں کی کیا مصروفیات ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : ظفر مگسی بلوچستان کی زمینداری وغیرہ اور چیزیں سنبھالتے ہیں جبکہ اکبر مگسی زمینداری کرتے ہیں۔ |
| |
| آج : بچپن کی کوئی ایسی چیز جو اب تک سنبھال کے رکھی ہو؟ |
| نادر خان مگسی : بہت ساری ٹرافیاں ہیں ۔ پورا کمرہ بھرا ہوا ہے۔ |
| |
| آج : عامر مگسی صاحب آپ کے پاس کوئی یادگار چیز؟ |
| عامر خان مگسی : جی ہا ں ٹرافیاں ہیں اورہمارے اجداد کی پانچ چھ سو سال پرانی باقیات ہیں ۔انیس سو اٹھاون کے مارشل لاء کے بعد جتنی بھی ہم محفوظ کر سکے وہ ہم نے چھوکی ہے بلکہ ایک چھوٹا سا اینٹیک روم بنایا ہوا ہے۔ |
| |
| آج : بچپن کاکوئی خاص واقعہ جو اب تک یاد ہو؟ |
| نادر خان مگسی : ایک تو واقعہ والد کے انتقال کا ہے۔مجھے یاد ہے ہم لوگ اسکول میں تھے ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہمارے والد شہید ہو گئے ہیں۔ |
| |
| آج : اس وقت کیا محسوس کررہے تھے ؟ |
| نادر خان مگسی : اس وقت میں دس سال کا تھا اور باقی سارے بھائی اور بھی چھوٹے تھے ۔ان کو تو سمجھ بھی نہیں آیاتھا کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے ۔ مجھے جہاں تک یا د ہے ہم اسکول میں تھے جب ہمیں پتا چلا تو پھر ہم لوگ ٹرین میں آئے تھے ۔ ہم لوگ سال میں ایک دفعہ گاوٴں آتے جاتے تھے ،گیارہ اپریل کو میرے والد شہید ہوئے تھے ۔ میرے خیال سے ہم وہاں تین چار دن کے بعد پہنچے تھے ۔ابھی جوحالات مجھے یاد آرہے ہیں وہ یہ کہ جو ان کی جیپ تھی اس میں بہت ساری گولیاں لگی ہوئی تھیں اور ظاہر ہے کہ ان کو پہلے دفن کر دیا تھا کیونکہ میری والدہ ادھر ہی تھیں ۔ |
| |
| آج : ا س کے پیچھے ساری محنت والدہ کی ہے؟ |
| نادر خان مگسی : بالکل بالکل۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس مشکل وقت میں بھی ہمارے ہاں اتحاد رہا۔عموماہمارے جیسے خاندان میں ایسا ہوتا ہے کہ جھگڑے پڑ جاتے ہیں، میرے والد نے اپنی ہر چیز بانٹ دی تھیں ۔ہم لوگوں کو ماشاء اللہ اس وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا عموما لڑائی جھگڑ اہوتا ہے بڑی فیملی میں مگر شکر ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ |
| |
| آج : ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ |
| نادر خان مگسی : ایچی سن کالج سے ،ساری تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ |
| |
| آج : عامر خان مگسی صاحب آپ نے ؟ |
| عامر خان مگسی : میں نے بھی ایچی سن سے پڑھا ،پھر میں ایف سی کالج چلا گیا تھا، میٹرک میں نے پرائیویٹ کیا تھاکیونکہ ایچی سن میں اس وقت میٹرک نہیں تھا ۔پھر میں نے میٹرک کیا ،ایف سی کالج سے ایف اے کیا اور پھر میں بیچلرز کرنے کیلئے امریکا گیا وہاں میں نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلرز کیااور پھر واپس آگیا۔ |
| |
| |
 |
| |
| آج : آپ نے کتنی ڈگریاں حاصل کی ؟ |
| عامر خان مگسی : فی الحال تو ایک ہی ڈگری ہے مگرماسٹرز کرنے کی کوشش کررہاہوں ۔ |
| |
| آج : نادر خان مگسی صاحب آپ کے پاس کتنی ڈگریاں ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : میرے پاس بھی بیچلرز کی ڈگری ہے۔ |
| |
| آج : کیسے طالب علم تھے ذہین تھے یا دل چراتے تھے؟ |
| نادر خان مگسی : میراخیال ہے میں بہت ذہین طالب علم نہیں تھا ۔بس اوسط تھا۔ |
| |
| آج : عامر خان مگسی صاحب آپ کیسے طالب علم تھے؟ |
| عامر خان مگسی : میں بھی اوسط ہی تھا ہماری سرگرمیاں کھیل کود اور عوام کی ذمہ داریوں کی طرف زیادہ تھی،تعلیم کی طرف کم توجہ تھی۔ |
| |
| آج : اسکول سے بھاگے کبھی ؟ |
| نادر خان مگسی : ایسے غائب نہیں ہوئے میرا چھوٹا بھائی تو بہت بھاگ جاتا تھا ہم لوگ غائب نہیں ہوئے کلاس چھوڑ کے نہیں بھاگے تھے ۔ |
| |
| |
| عامر خان مگسی : ڈسپلن ہوتا تھا ہمارا ہم کبھی بھاگتے نہیں تھے ۔شروع سے والدہ کی طرف سے سختی تھی پھر بورڈنگ اسکول میں جو رکھا گیا تھا ایک خوف رہتا تھا ۔ہمارے ایک پرنسپل تھے عبدالعلی خان صاحب وہ بہت سخت تھے کہ ان کے سامنے کسی کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ |
| |
| آج : انہوں نے کبھی پٹائی کی ؟ |
| عامر خان مگسی : میری ایک دفعہ ہو ئی تھی۔میرے اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے وہ ایک انگلش ٹیچر تھے ۔ ان کا نام مسٹر شہاب ہے ، میں شیطانی کرتا تھا ۔ایک دفعہ ہم لاہور میں تھے جب گارڈن میں گئے تھے،وہاں شہد کی مکھی کاچھتا تھا ، میں نے اس کوچھیڑا تاکہ مکھیاں لوگوں کی طرف جائیں اور ان کو تنگ کریں لیکن لوگوں کے بجائے ہم پر ہی لمحہ ہو گیا تھاپھر سر کو پتا چل گیا تو تب انہوں نے ٹھیک ٹھاک پٹائی لگائی تھی۔ |
| |
| آج : اسکول کے کوئی دوست جو اب تک رابطے میں ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : جی ہاں لاہور اور کراچی کے دوست رابطے میں ہیں۔ |
| |
| آج : کالج لائف کیسی رہی وہ بھی اسکول لائف ہی جیسی گزری؟ |
| نادر خان مگسی : جی ہاں بالکل ۔ |
| |
| آج : میر عامر مگسی صاحب آپ کی ؟ |
عامر خان مگسی : جی بالکل اسپورٹس اور کھیل کود میں او ر ہمیں گاڑیوں کا بہت شوق تھا ۔ |
| |
| آج : کوئی استاد ایسا ہے جس نے آپ دونوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کیا ہو ؟ |
| عامر خان مگسی : شوکت صاحب تھے اور مسٹر لینگ لینس ہوتے تھے، انہوں نے ہمیں کافی سکھایا سمجھایا وہ ہمارے ساتھ بہت اچھے تھے۔بورڈنگ اسکول میں خود استری کرنا، جوتے صاف کرنا ہر چیز خود سکھائی اور آج ہم اس چیز پر فخر کرتے ہیں کہ اپنے پاوٴں پر کھڑے ہوسکتے ہیں کہ ہم کسی کے سہارے کے محتاج نہیں کہ نوکر ہوں چاکر ہوں ۔ |
| |
| |
نادر خان مگسی : ہم لوگ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں کہ سب کچھ ملتا ہے لیکن یہ تربیت ہمیں ملی اور ہمیں اپنی والدہ سے بھی ملی کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ |
| |
| آج : میں یہی سوال آپ سے کرنے والا تھا کہ وہاں یہ تربیت ملتی ہے اور جب آپ آتے ہیں اپنے علاقوں میں تو وہاں کچھ اور ماحول ہوتا ہے تو کس طرح ایڈجسٹ کرتے ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : یہی میں آپ کو عرض کررہا ہوں کہ ہم نے شروع سے لے کر ابھی تک ایڈجسٹمنٹ کی ہے ساری دنیا بھی دیکھی ہے اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہوئے ہیں وہ آپ کو میں آگے میں بھی بتاوٴں گا کہ ہم نے کیا کچھ کیا ہے تو آپ خود ہی کہیں گے کہ آپ کے پاس اتنا کچھ ہونے کے باوجود آپ یہ کام کیسے کررہے ہیں،ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کیونکہ جیسے اللہ نے ہمیں دیا ہے و ہ واپس لے بھی سکتا ہے اس لئے ہم اس چیز کا خیال رکھتے ہیں۔ |
| |
| آج : اسٹوڈنٹ لائف کی ایسی بات جو اب تک مس کرتے ہوں؟ |
| عامر خان مگسی : ذمہ داری نہیں تھی ۔اب ذمے داری ہے ،فیملی کی، لوگوں کی ماحول کی ۔اس وقت یہ ہوتا تھا کہ کوئی ذمے داری نہیں تھی بس دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا تھا چھٹی کے ٹائم پر لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ |
| |
| آج : سیاست میں اپنی مرضی سے آئے یا اجداد کی پیروی کی ؟ |
| نادر خان مگسی : نہیں میرے خیال سے حالات نے مجبور کیاسیاست میں آنے کے لئے کیونکہ میرے والد زندہ ہوتے تو ہم سیاست میں نہیں آتے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم مختلف شعبوں میں پیشہ وارانہ کام کریں۔ وہ بہت جوان تھے جب شہید ہوئے تھے تو یہاں پرکہنایہی چاہئے کہ اگر آپ خاص طور سے جس خاندان سے ہم لوگ تعلق رکھتے ہیں ان کی بہتری کرنا اس علاقے کی بہتری کرنا سیاست کے بغیر میرا خیال ہے ناممکن تھا میں پرسنلی آپ سے کہوں گا کہ میں سیاستدان ہوں ہی نہیں۔ |
| |
| آج : پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کیوں کی؟ |
| ناد رخان مگسی : میں نے ایک ہی پارٹی جوائن کی ہے شروع سے نہ میں کسی اور پارٹی میں رہا ہوں ۔ بے نظیر کے ساتھ میرا براہ راست واسطہ تھا اورکسی سے میرا واسطہ نہیں تھا۔ان کے ساتھ پہلے جب وہ انیس سو اٹھاسی میں آئی تو ان کے والد کے ساتھ میرے والد کے بہت اچھے تعلقات تھے،دونوں بھائیوں کی طرح تھے۔پھر جو حادثے ہوئے ہیں ان کے ساتھ، ان کے والد کے ساتھ توہمار ابھی فرض بنتا تھا کہ ان کی مدد کریں اور وہ بھی یہی چاہتی تھیں ۔تو شروع سے ان ہی کی ساتھ رہے ہیں اور آخری دم تک ان ہی کے ساتھ رہیں گے۔ |
| |
| آج : میر عامر خان مگسی صاحب آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : جی فیملی تعلقات رہے ہیں ان کے ساتھ اور ان کے جو چھوٹے بھائی تھی شاہنواز صاحب ان کے ساتھ نادر صاحب کی تعلیم رہی ہے میرے سے تھوڑ ا سینئر رہے ہیں۔ اسی طرح میر مرتضیٰ کی دوستی تھی اسی طرح ہماری آصف زرداری کے ساتھ بھی دوستی تھی ان کی شادی سے پہلے بھی ۔ |
| |
| آج : لوگ کہتے ہیں کہ اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو آپ موجودہ حکومت میں وزیر اعلیٰ ہوتے ؟ |
| نادر خان مگسی : کچھ پتانہیں کہ کیا ہوتا لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں وہ زندہ رہتی چاہے میں وزیر اعلیٰ بنتا یانہ بنتا،وہ زندہ رہتیں یہ ہی بہت تھا ہمارے لئے ان کا جانے کا جو نقصان ہے وہ کبھی پور ا نہیں ہو سکتا۔ |
| |
| آج : آپ وزیر بلدیا ت بھی رہے تو اپنے علاقے کی خدمت کیلئے کیا اقدامات کئے آپ نے ؟ |
| نادر خان مگسی : جتنا عرصہ تھے تھوڑے بہت تو اس وقت ہم نے ملاز مت دی تھی لوگوں کو او ر اس کے علاوہ تعمیراتی کام کرائے، تعلیم ، بجلی ، روڈ سب پرکام بینظیر حکومت میں ہوئے اورکسی حکومت نے اس طرف رخ نہیں کیا۔ |
| |
| آج : آپ وزیر بلدیا ت بھی رہے تو اپنے علاقے کی خدمت کیلئے کیا اقدامات کئے آپ نے ؟ |
| نادر خان مگسی : جتنا عرصہ تھے تھوڑے بہت تو اس وقت ہم نے ملاز مت دی تھی لوگوں کو او ر اس کے علاوہ تعمیراتی کام کرائے، تعلیم ، بجلی ، روڈ سب پرکام بینظیر حکومت میں ہوئے اورکسی حکومت نے اس طرف رخ نہیں کیا۔ |
| |
| آج : اچھا بے نظیر کی شہادت کا ذکر آیا تو آپ کی آواز تھوڑی سی بھرا گئی بہت زیادہ ایسا لگتا ہے کہ آپ انکے قریب تھے مس کرتے ہیں ا ن کو؟ |
| نادر خان مگسی : جی بالکل بہت اٹیچ تھے اور مس بھی کرتے ہیں انہیں۔ |
| |
| آج : آپ دونوں میں سندھ میں شمولیت اختیار کی کیا وجہ تھی بلوچستان آ پ کی روٹس تھی یہاں کیوں آئے آپ لوگ؟ |
| عامر خان مگسی : یہ تو دارصل میرے والد صاحب بھی یہاں سے ایم پی اے رہ چکے تھے اور کیونکہ قبیلہ اتنابڑا ہے یہاں پر لوگوں کے ساتھ تعلقات اتنے ہیں یہاں پر اور صرف والد کی وجہ سے نہیں تھا ،دراصل شہداد کوٹ میں نواب قیصر خان کے وقت میں بھی ہماری اٹھارہ ہزار ایکڑ زمین تھی ۔جب پاکستان بن گیا تو میرے والد نے سوچا کہ الیکشن یہاں لڑیں گے اسی وجہ سے کہ یہاں قبیلہ ہے اور جیسے لیڈر شپ بنتی ہے تو اس وجہ سے ہوا تھا کہ ایک بھائی یہاں پر ہے اور ایک وہاں تو اسی طرح ہم لوگوں نے سندھ کارخ کیاکیونکہ نادر صاحب یہاں کہ ایم این اے ہوئے باقی بھائی بلوچستان میں تھے تو پھر ہم نے تقسیم کرلیا کہ آپ وہاں پر ہیں تو ہم اس چیز کو اٹھا کہ یہاں پر چلیں تو اسی وجہ سے ہوا۔ |
| |
| آج : بے نظیر بھٹو مشورہ کرتی تھیں آپ سے ،جب آپ منسٹر تھے ؟ |
| نادر خان مگسی : جی بالکل مشورہ کرتی تھیں کہ کیا کرنا ہے خا ص طورپرعلاقے کے حوالے سے،پھرہم ان کو اپنے مسائل بتاتے تھے تو وہ مسائل کوحل کر دیتی تھیں نہ کبھی نہیں کرتی تھیں۔ |
| |
| |
| عامر خان مگسی : منسٹر ی کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں ہوتی تھیں جیسے سندھ کے حوالے سے ، سیاست سے ہو ڈسٹرکٹ سے ہو مطلب کوئی بھی ایسی چیزیں ہوتی تھی حالانکہ ان کی شہادت سے پہلے تین دن انہوں نے ہمارے ساتھ گزارے اکیس ، بائیس ، تئیس دسمبر کو انہوں نے یہیں اس گھر میں گزارے تھے پورا دن بائیس تاریخ کو یہیں پر گزاراتھا۔ انہوں شام میں نادر خان صاحب کو وہاں پر بلایا تھا کوئی خاص بات کی تھی ان سے اسی حوالے سے ۔ |
| |
| آج : نادر خان مگسی صاحب کیا باتیں ہوئی تھیں بے نظیر بھٹو صاحبہ سے آپ کی؟ |
| نادر خان مگسی : خیر کچھ باتیں میں بتا بھی نہیں سکتا ہو ں آپ کو لیکن دراصل ان کو خطرہ تھا ،جس کے بارے میں انہوں نے صاف صاف بتایا تھا ۔ میں ان کو کہتا تھا کہ آپ اپنا خیا ل رکھیں ،سندھ میں ہوتی تھیں تو ہم ساتھ تھے تو جب پنجاب جائیں تو زیادہ خیا ل رکھیں ۔ |
| |
| آج : آپ نے تمام انتخابات میں حصہ لیا ،پھردوہزار دو کے الیکشن میں کیوں باہر رہے ؟ |
| نادر خان مگسی : میں خود باہر نہیں رہا زبردستی باہر رکھاگیامجھے۔ |
| |
| آج : اس میں کونسی طاقتیں تھی،جنہوں نے آپ کوباہررکھا؟ |
| نادر خان مگسی : جو ملک چلارہی ہے اسٹیبلشمنٹ ہے اپنا مشرف صاحب آگئے جو ان کے ساتھ مل گئے وہ ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں بھی یہی آفر تھی کہ بی بی کو چھوڑو جو مرضی کرو ۔ |
| |
| آج : سنا ہے بے نظیر بھٹو آپ کو وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتی تھیں اسی وجہ سے آپ کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا اور اب جبکہ قائم علی شاہ کا نام آگیا ہے تو اس میں اب آپ کیا کہتے ہیں؟ |
| نادرخان مگسی : دینے لینے کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔بے نظیر بھٹو جو چاہتیں وہ ہوتا یہ کوئی مسئلہ نہیں کوئی بھی وزیر اعلیٰ ہو۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ سندھ کی بہتری ہو ایسا آدمی ہوکہ جس کے آنے سے سندھ کا بھلا ہو، سندھ کو اچھے طریقے سے چلائے بس۔ |
| |
| |
 |
| |
| آج : بے نظیر کے بعد بلاول کانام آپ یہ نہیں سمجھتے یہ موروثیت ہے؟ |
| ناد خان مگسی : یہ پارٹی کیسے بنی ،چلی کیسے اور کیا ہوا اس میں میرا خیال ہے کہ بھٹو شہید سے یہ خون شہید ہی ہوتا رہا ہے اور وہ ٹرانسفر ایک سے دوسرے کو دوسرے سے تیسرے کو دراصل پارٹی کی بات نہیں پارٹی کو جو سپورٹ ہے وہ عوام کی ہے اوروہ یہ نہیں مانتی مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی اور کو سامنے کرتے ہیں تو پارٹی کو جو ٹریڈر ہے جو پارٹی کے لوگ ہیں وہ نہیں مانتے آپ بھلا پارٹی کیسے بنائیں گے ۔ اب کارکردگی کی بات جہاں تک آپ نے کہی کہ اگر آپ کسی کو دے دیتے ہیں تو موروثی ملکیت کرکے تو بھئی وہ پرفارم نہیں کرتا پرفارم نہیں کرے گا تو سامنے آجائے گا۔ بھٹو صاحب نے کارکردگی دکھائی بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ان سے زیادہ اچھی کارکردگی کی۔ میری وابستگی بھٹو صاحب کی وجہ سے نہیں سیدھی بات ہے میری وابستگی جو اس پارٹی میں رہی ہے وہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی وجہ سے ہے۔ |
| |
| آج : آصف زرداری کے زیر اثر پارٹی کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : میں اچھا دیکھتا ہوں مگر جس موڑ پر ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ بہت نازک ہے ۔پارٹی کے دشمنوں نے بے نظیر بھٹو کو سیاست سے ہٹایا ہے کہ پارٹی ختم ہو اور اب سارا کھیل آصف زرداری کے ہاتھ میں ہے کہ وہ پارٹی کو کیسے چلا تے ہیں ۔ہمیں امید ہے کہ وہ پارٹی کو اکٹھا رکھیں گے کیونکہ اب سوچ یہ چل رہی ہے کہ پارٹی ٹوٹے گی میرا خیال ہے کہ پارٹی کو اکٹھا رکھیں گے اور وہ اب اپنی کارکردگی دکھائیں اور پارٹی کو آگے بڑھائیں۔ |
| |
| آج : بے نظیر صاحبہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں تو آپ کاتعلق ان ہی کے ساتھ تھا ،یہ تعلق اب بھی رہے گا ؟ |
| نادر خان مگسی : بالکل ،لیکن جو انکے ساتھ جوتعلق تھا وہ بات نہیں آسکتی ، میری وابستگی ان کے ساتھ تھی ، لیکن اب بھی پارٹی کے ساتھ ہوں۔ |
| |
| آج : عام خیال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا م نہیں کرنے دیتی بے نظیر صاحبہ دو دفعہ وزیر اعظم رہیں، تو اس دوران کیا کام ہوا؟ |
| ناد ر خان مگسی : اسٹیبلشمنٹ جو ہے وائٹل ایشوز پرآپ کو تکلیف دیتی ہے ۔ |
| |
| آج : دو ہزار سات میں جو سیلاب آیا اس میں آپ نے یاآپ کی فیملی نے علاقے کے لئے کیاخدمات انجام دیں؟ |
| نادر خان مگسی : میراخیال ہے جو ہم نے کیا وہ آپ لوگوں سے جا کر پوچھیں۔ دن رات ہم نے ایک کردیا، وہ ہمارا فرض تھا ہمارے ہی لوگ تھے ہمارے ہی بچے تھے، بھائی تھے، بہنیں تھیں ہم نے تو کرنا تھا۔ ہاں حکومت نے ہمار ا ساتھ نہیں دیا لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ جو ہمارے دوست تھے پنجاب، بلوچستان سندھ سے جو ہمارے دوست تھے انہوں نے ہمار ا بہت ساتھ دیا ان کا ہم جتنا شکریہ ادا کریں وہ کم ہے۔ |
| |
| آج : آپ لوگوں نے خود بھی بڑی اچھی تعلیم حاصل کی لیکن علاقے میں کوئی بڑا تعلیمی ادارہ نہیں ہے؟ |
| نادر خان مگسی : اس میں اور کام کرنا ہے اس میں کمی ہے اوراس حوالے سے ہم کا م کریں گے۔ایجوکشن کے اوپر سوشل سروس کے اوپر کام کریں گے یہی چیز بے نظیر صاحبہ کہتی تھیں۔ |
| |
| آج : ایم کیوایم بھی صوبائی خودمختاری کی بات کررہی ہے ۔تو کیا ان کے ساتھ مل کر اس پر کام کرسکتے ہیں؟ |
| ناد ر خان مگسی : میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مل کر کام ہو تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ ان کو بھی ووٹ ملیں ہیں مل کر چلیں بلیک میلنگ سے نہیں۔ سندھ اکٹھا رہے میں سب کو سندھی سمجھتاہوں مہاجر نہیں سمجھتا اگر وہ اپنے کو مہاجر سمجھتے ہیں تو میں ان کو مہاجر نہیں سمجھتا ۔میرے لئے وہ بھی سندھی ہیں وہ بھی سندھ کی زمین میں آگئے ہیں اب سب سندھی ہیں ۔بھائی بھائی بن کے رہیں تو زیادہ بہتر ہے اگر وہ لکیر آپ کھینچتے ہیں تو وہ نقصان دہ ہے تو پہلے نقصان سندھ کوہی ہوگا بعد میں کسی اور کو۔ |
| |
| آج : آپ کے اب کیا منصوبے ہیں اگلے پانچ سال کے لئے؟ |
| نادرخان مگسی : میں تعلیم میں خاص طور پر زور دینے والا ہوں او ر معاشی حالات پر بھی زور دینا ہے کیونکہ تعلیم بھی جب ہوگی جب آپ کو کچھ کھانے کو ملے گا نہیں تو پڑھائیاں کیا آپ چھوڑ کے چلیں جائیں گے۔سوشل سیکٹرز کے اوپر اور عورتوں کا مسئلہ یہاں بہت زیادہ ہے تو اس پر زور دیں گے ۔ عورتوں کے مسائل حل ہوں انکی تعلیم مکمل ہو۔ صحت کا بہت بڑا مسئلہ ہے اس پر زور دیں گے اور دوسر ا کام یہ کرنا ہے کہ ہم نے یہاں بہت اچھا ہسپتال بنانا ہے کیونکہ یہاں سب سندھ بلوچستان سے لوگ آتے ہیں اور یہ شہداد کوٹ اناج کے حوالے سے پاکستان کی پہلے نمبر کی منڈی ہے ۔ |
| |
| آج : اگلے پانچ سال میں کیا پروگرام ہے ؟ |
| عامر خان مگسی : بالکل ہمارے پاس پور ا ایجنڈابنا ہواہے پارٹی کے منشور کے مطابق اور اسکے اندر جو چیزیں ہم نے ہائی لائٹ کی ہیں جو انتخابی مہم کے مطابق مجھے بتایا گیا تھا جن لوگوں کے پاس میں گیا تھا ووٹ مانگنے کیلئے وہ ہم نے پورا نوٹ کیا ہے اورایک ڈائری بنائی ہے۔ اس ڈائری کے مطابق یہ جو ڈیمانڈز آئی ہیں اس کا ہم لوگوں نے نچوڑنکالا ہے کہ کن چیزوں کی زیادہ ضرورت ہے جو ہے اسکے اند ر ہے ذرعی معاش بہتر ہونا چاہئے ، پانی کا مسئلہ حل کروایا جائے یہ میں دیہی علاقوں کی بات کررہا ہوں اب ٹاوٴنز کے باہر جوہیں اس کے ساتھ ساتھ انکی ملازمت ہے کمیونیکیشن ہے بجلی ہے یہ اہم چیز ہیں اچھے اسکول جہاں موجود ہیں وہاں اساتذہ کی کمی ہے ایجوکیشن سسٹم بھی بہت کمزور ہے۔ اچھا شہر میں آجائیں تو پینے کا پانی ہے اور شہر کا جو عملہ ہے صفائی کا جو ڈرینج یہ سب سے زیادہ ہے۔ |
| |
| آج : آپ دونوں نے بار بار اصولی سیاست کی بات کی ۔بلوچستان سے ہی تعلق ہے شیر باز خان مزاری صاحب کا اصولی سیاست کا نتیجہ ان کو بھی یہ ملا کہ انھیں خاموش بیٹھناپڑ ا تو آپ کا بھی یہی پروگرام ہے یاحق کے لئے آوازبلندکریں گے؟ |
| عامرخان مگسی : نہیں بالکل چپ کر کے نہیں بیٹھیں گے ہم مقابلہ کریں گے۔ لوگوں کی جو اتنی ذمے داریاں ہیں ہم چپ کر کے بیٹھ جائیں تو ہمارا ضمیر ہمیں ضرور ملامت کرے گا۔ آپ ایسا سمجھیں کہ ہم خدمت کو ثواب بھی سمجھتے ہیں ۔ |
| |
| آج : خود کو کیسامحسوس کرتے ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : لائف بس نارمل ہے جیسا ہونا چاہئے بس کبھی تھوڑی تیزی آجاتی ہے اس کو ذرا کنٹرول کرتے ہیں۔ |
| |
| ٓآج : نادر خان مگسی صاحب آپ خود کو کیسا پاتے ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : میری یہ بات ہے انسانیت۔ |
| |
| آج : کونسی عادت پسند ہے اور کونسی ناپسند؟ |
| میر عامر خان مگسی : اونچا زیادہ بولتا ہوں وہ اچھی بات نہیں ہے اسکو کنٹرول کرنا چاہئے ۔ میں وقت کی بہت پابندی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور لوگوں سے بھی یہی امیدکرتا ہوں کہ وہ وقت کی پابند ی کریں۔ |
| |
| آج : نادر خان صاحب آپکو کونسی عادت پسند اور ناپسند ہے؟ |
| نادر خان مگسی : جھوٹ سے نفرت ہے۔ |
| |
| آج : کونسی جگہ جانے کا دل چاہتا ہے؟ |
| نادر خان مگسی : ساری دنیاکا سفر کرنا چاہتاہوں ۔ |
| |
| آج : میر عامر خان مگسی صاحب آپ کا کہاں جانے کادل چاہتا ہے؟ |
| عامر خان مگسی : افریقاجانا چاہتا ہوں شکار کیلئے شکار کا بہت شوق ہے ۔ افریقا جابھی چکا ہوں لیکن پھر جانے کا دل چاہتا ہے لیکن وقت ملے تو جائیں ۔ہمالیہ کے پہاڑوں میں دو ردراز علاقوں میں لیکن جانے کا اب موقع نہیں ملتا۔ |
| |
| آج : اب ایم این اے ہوں گئے ہیں تو اب تو او ر زیادہ مصروف رہیں گے؟ |
| عامر خان مگسی : کوشش کریں گے کہ کسی سرکاری دورے پر گھومنے جائیں۔ |
| |
| آج : بچے کتنے ہیں آپ کے ؟ |
| نادرخان مگسی : میری ایک بچی ہے اوروہ پڑھ رہی ہے۔ |
| |
| آج : عامر خان مگسی صاحب آپکے کتنے بچے ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : میرے چار بچے ہیں تین پڑھ رہے ہیں اور ایک بہت چھوٹا ہے۔ |
| |
| آج : بچوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے؟ |
| نادر خان مگسی : بچوں کے ساتھ بچہ ہی بن جاتا ہوں۔ |
| |
| آج : عامر خان مگسی صاحب آپ کا کیسا رویہ ہے بچوں کے ساتھ؟ |
| عامر خان مگسی : میں بھی بہت خیال رکھتا ہوں بچوں کے ساتھ بچہ ہی بن جاتا ہوں۔ |
| |
| آج : آپ کا اسٹار کون سا ہے؟ |
| نادر خان مگسی : اسکور پین۔ |
| |
| آج : عامر خان صاحب آپ کا اسٹار؟ |
| عامر خان مگسی : کیپریکون۔ |
| |
| آج : دو مختلف اسٹار بنتی ہے آپس میں؟ |
| نادر خان مگسی : چھوٹا بھائی ہے کیسے نہیں بنے گی۔ |
| |
| آج : کسی کو ہاتھ دکھایا یا ستاروں پر یقین رکھتے ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : نہیں ہاتھ تو نہیں دکھایا ، جو لکھا ہے اللہ نے وہ تو ہو کہ رہے گا۔ |
| |
| آج : کیسے ہیں آپ آزادخیال یارجعت پسند؟ |
| عامر خان مگسی : میں درمیانی ہوں۔ |
| |
| آج : نادر خان صاحب آپ ؟ |
| نادر خان مگسی : میں جی لبرل ہوں۔ |
| |
| آج : کس بات سے دکھی ہو جاتے ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : کسی پر ظلم نہیں ہو خاص طور پر غریبوں پرکسی کے ساتھ زیادتی ہو تو دکھ ہوتا ہے غصہ بھی آتا ہے مگر زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ |
| |
| آج : عامر صاحب آپ کس بات سے دکھی ہوتے ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : دھوکے سے ،کوئی دھوکا دے اور سچ نہ بولے ،اس کے علاوہ ظلم نہیں ہونا چاہئے غریبوں یا امیروں پر ناجائز نہیں ہو نا چاہئے۔ |
| |
| آج : کھانے میں کیا پسند ہے ؟ |
| نادر خان مگسی : کھانے میں یہ مسئلہ ہے وزن بڑھ گیا میرا خاص طور پر الیکشن میں ۔ میری والدہ افغانی پلاوٴ بناتی ہیں وہ بہت پسند ہے۔ |
| |
| آج : ملنے جلنے والے ہیں یا تنہائی پسند ہے ؟ |
| نادر خان مگسی : میں تو سارا دن ہی لوگوں کے ساتھ بیٹھارہتا ہوں صبح سے لے کر شام تک ۔دراصل پھر تنہائی جو ہے فائدہ مند رہتی ہے کہ اگر کچھ وقت مل جائے تنہائی کا تو کچھ سکون ہو جاتا ہے کیونکہ اگر آپ صبح دس بجے سے رات کے نو بجے تک لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو کچھ وقت تو آپ کو چاہئے ہوتا ہے تو تنہائی کم ہی ملتی ہے یہاں پر۔ |
| |
| آج : عامرخان مگسی صاحب آپ اس معاملے میں کیسے ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : میں سوشل ہوں لیکن میر نادر صاحب ذرا زیادہ وقت دیتے ہیں میں کم دیتا ہوں میں زیادہ لوگوں کے پاس جانے کی کوشش کرتا ہوں کہ مطلب لوگوں کے پاس جا وٴں تو گھومنے پھرنے سے ایکٹیویتی بڑھتی رہتی ہے۔ |
| |
| آج : موسیقی سنتے ہیں کون پسند ہے؟ |
| نادر خان مگسی : جی سنتاہوں ۔لوکل پرفامرز لیکن اب زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ باہر امریکن میوزک ہے اسکے ساتھ زیادہ وابستگی رہی ہے۔ |
| |
| آج : عامر خان مگسی صاحب آپ کو موسیقی پسند ہے ؟ |
| عامر خان مگسی : میں جی لوکل بھی سن لیتا ہوں اور انگلش بھی ۔ |
| |
| آج : فلمیں دیکھتے ہیں آخری فلم کون سی دیکھی؟ |
| عامر خان مگسی : جی دیکھتا ہوں آخری فلم دو تین مہینے پہلے الیکشن سے ہی پہلے دیکھی ہوگی۔ |
| |
| آج : آپ نادر خان مگسی صاحب آخری فلم کو ن سی دیکھی ؟ |
| نادر خان مگسی : آخری فلم میں نے پانچ مہینے پہلے امریکا میں دیکھی تھی ۔ |
| |
| آج : کون سا اداکار یا اداکارہ پسند ہے؟ |
| نادر خان مگسی : روبرٹ ڈینیرو ۔ |
| |
| آج : عامرخان صاحب آپ کو کون سا اداکار یا کونسی اداکار پسند ہے؟ |
| عامر خان مگسی : ادکارتو آرنلڈ ، روبرٹ ڈینرو اسی طرح مجھے پرانی فلمیں بھی بہت پسند ہیں۔ |
| |
| آج : کو ن سا ملک پسند ہے ؟ |
| عامر خان مگسی : انگلینڈ ، دبئی امریکا سب اچھے ملک ہیں لیکن دبئی زیادہ پسند ہے۔ |
| |
| آج : نادر خان آپ کو کون سا ملک پسند ہے؟ |
| نادر خان مگسی : مجھے بھی دبئی پسند ہے لیکن میرا تو امریکا کے ساتھ بھی زیادہ تعلقات ہیں اور آنا جانا بھی رہتا ہے اچھا ملک ہے اچھے لوگ ہیں۔ |
| |
| آج : جھوٹ بولتے ہیں؟ |
| نادر خان مگسی : کوشش کرتا ہوں کہ نہ بولوں میں بھی انسان ہوں جھوٹ نکل ہی جاتا ہے۔ |
| |
| آج : آپ جھوٹ بولتے ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : بالکل جی انسان سے غلطی ضرور ہوتی ہے لیکن نہیں بولنا چاہئے چھوٹا موٹا اگر ہو تو نکل جاتا ہے لیکن الحمداللہ جھوٹ سے پرہیز کرتے ہیں۔ |
| |
| آج : کسی چیز کی کمی محسوس کرتے ہیں زندگی میں ؟ |
| نادر خان مگسی : اللہ نے سب کچھ دیا ہے لیکن والد ہوتے تو اچھاہوتا اور اللہ نے بیٹوں جیسی بیٹی دی ہے شکر ہے اللہ کا سب کچھ ملا۔ |
| |
| آج : عامر خان مگسی صاحب آپ کس چیز کی کمی محسوس کرتے ہیں؟ |
| عامر خان مگسی : اللہ کا شکر ہے سب کچھ دیا۔ |
| |
| آج : کوئی ایسا کام جو کرنا چاہتے ہوں ؟ |
| نادر خان مگسی : انسانوں کی خدمت جس طریقے سے میں کرنا چاہتاہوں میراخیال ہے کہ میں نہیں کرسکتا۔ |
| |
| آج : عامر خان صاحب آپ کوئی ایساکام جو کرنا چاہتے ہوں ؟عامر خان مگسی : کام تو بہت سے ایسے ہیں جو آجکل کے سوشل جتنے بھی کام ہیں لیکن کوشش یہی ہے کہ بہتری ہو جو چیز کریں انسان کی خدمت بہتری کی طرف جائیں کہ انسان کو ہم راضی کرسکیں کہ اللہ نے ہمیں ہمت دی ہے اسی ہمت کو لے کر انسان کی جاکے ہم خدمت کریں اور یہ ہمار ی ذمے داری ہے۔ |
| عامر خان مگسی : کام تو بہت سے ایسے ہیں جو آجکل کے سوشل جتنے بھی کام ہیں لیکن کوشش یہی ہے کہ بہتری ہو جو چیز کریں انسان کی خدمت بہتری کی طرف جائیں کہ انسان کو ہم راضی کرسکیں کہ اللہ نے ہمیں ہمت دی ہے اسی ہمت کو لے کر انسان کی جاکے ہم خدمت کریں اور یہ ہمار ی ذمے داری ہے۔ |
| |
| آج : کتابیں پڑھتے ہیں؟ |
| نادرخان مگسی : جی بالکل بھی نہیں پڑھتا۔ |
| |
| آج : آپ پڑھتے ہیں کتابیں؟ |
| عامر خان مگسی : بہت کم جی کیونکہ وقت بہت کم ملتاہے جب وقت ملتا تھا تو پڑھتا تھا انگلش ناولز وغیرہ۔ |
| |
| آج : پسندیدہ رائٹر کون ہے؟ |
| عامر خان مگسی : پسندیدہ رائٹر کوئی اسپیشل تو نہیں ہے لیکن جو تھوڑ بہت دیکھا ہے پڑھاہے سنا ہے تو فیض احمد فیض ہو گیا اس طرح کی شاعری پڑھ لیتے تھے ہمارے بڑوں کی شاعری بہت لکھی ہوئی ہے ہمارے پاس فارسی میں ،سندھی میں ، اردو میں تو اپنی ہسٹری کو دہرانے کیلئے وہ کبھی کبھی پڑھ لیتا ہوں۔ |
| |
| آج : شادی آپ کی فیملی میں ہوئی؟ |
| نادرخان مگسی : نہیں باہر ہوئی ہے۔ |
| |
| آج : عشق کیا آپ نے یا مطلب پسند سے ہوئی؟ |
| نادر خان مگسی : پسند سے ہوئی۔ |
| |
| آج : آپ کی کیسے ہوئی شادی؟ |
| عامر خان مگسی : میری تو جی ارینج ہوئی تھی ۔ فیملی سے باہر ہوئی ہے ۔ |
| |
| آج : ذریعہ معاش کیا ہے ؟ |
| ناد ر خان مگسی : اللہ نے اتنی زمین دی ہے کہ شاید کسی کے پاس نہیں ہے شکر ہے اللہ کا بہت زمینیں ہیں۔ |
| |
| آج : آپ کا ذریعہ معاش؟ |
| عامر خان مگسی : نہیں جی میں نے زیادہ بڑھایا ہوا ہے میرے بزنس بھی ہیں کچھ سات پٹرول پمپز ہیں میرے ٹرانسپورٹ ہے ۔ ایگریکلچر میں بھی ہم نے فارمز بنائے ہوئے ہیں تو پانچ سو ہزار ایکڑ کے فارمز ہیں ہمارے پاس۔ |
| |
| آج : سناہے کار ریسنگ کا بہت شوق ہے؟ |
| نادر خان مگسی : کار کو تو بچپن سے ہی شوق ہے، یہ خاندانی ہے میرے والد کو شوق تھا میرے دادا کو شوق تھا ۔اچھی اچھی گاڑیاں میرے والد کے پاس تھیں۔ گاڑیوں کے علاوہ اسپورٹس میں کا شوق تھا بچپن سے گاڑیا ں چلاتے تھے اور ریس لگاتے تھے۔ |
| |
| آج : مستقبل سے متعلق کیا ارداے ہیں ریٹائرمنٹ کاارادہ ہے سیاست سے ؟ |
| نادر خان مگسی : سیاست اپنی جگہ پر ہے چلتی ہے نہیں چلتی ہے میری تو وابستگی لوگوں کے ساتھ ہے ان سے تو ریٹائرمنٹ نہیں ہو سکتی جب تک سانس میں سانس ہے۔ |
| |
| آج : ساری سیاسی زندگی یا جو عوامی زندگی آپ نے گزار ی ہے یااپنے خاندان کے بارے میں لکھوانے کا ارداہ ہے؟ |
| نادر خان مگسی : جی بالکل لکھوانے کا ارداہ ہے۔ |
| |
| آج : ملکی سیاست کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں آپ ؟ |
| نادر خان مگسی : بہت مشکل وقت ہو گا جو ہم دیکھنے والے ہیں مستقبل میں ۔مجھے تو یہ ہے کہ بے نظیر صاحبہ کو جو شہید کیا گیا وہ منصوبے کے تحت ہے او ر ایسے دشمن ہمیں لگے ہیں جو ملک توڑنا چاہتے ہیں ہم نے بڑی محنت کرنی ہے شاید یہ چیزیں لوگوں کو پسند نہ آئیں جو میں کہ رہا ہوں لیکن میں سیدھی بات کرتا ہوں جو ہورہا ہے ملک توڑنے کیلئے ہو رہا ہے۔ |
| |
| آج : پسندیدہ سیاستدان؟ |
| نادر خان مگسی : بے نظیر بھٹو۔ |
| |
| آج : ان کی شہادت پر کوئی پیغام دینا چاہیں گے عوام کو ؟ |
| نادر خان مگسی : جی ہا ں بالکل انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پاکستان کیلئے دیا اور ہمار ا فرض بنتا ہے خاص طور پر پیپلز پارٹی کو ہم سب کو مل کر رہنا چاہئے کیونکہ بہت مشکل وقت ہے اور آگے بھی بہت مشکل وقت آنے والاہے اتحاد جو انہوں نے اپنا پیغام اور اپنی کارکردگی کا جو وہ پیغام چھوڑ کر گئی ہیں وہ سب ظاہر ہے ۔ہم اسکو فالو کریں گے جمہوریت کیلئے ۔ جیسے انہوں نے کہا تھا کہ جمہوریت ایک بہترین بدلہ ہے ۔جمہوریت کو ہم آگے بڑھائیں اور دوسری دفعہ ایسا کام نہ ہو جس طریقے سے جمہوریت کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ ابھی بہت اچھا ہورہا ہے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو ہمیں اپنا ہاوٴس یکجا رکھنا چاہئے ہم لوگ اپنا گھر تباہ نہ کریں جو پہلے ہوتا رہا ہے اور میں یہی کہوں گا کہ پیپلز پارٹی آپس میں اکٹھا رہے ۔ |
| |
| نادر اورعامرمگسی صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ |
|
| |