aaj.tv brecorder.com khistocks.com
  Logo
 
اگلا صدر کون ہو گا؟
فہمیدہ مرزا
اسفند یار ولی
فریال تالپور
آفتاب شعبان میرانی
City Max Min Hum
 KHI   31 oC   36 oC   70 %
 ISL   36 oC   23 oC   70 %
 LHR   35 oC   26 oC   62 %
 QTA   35 oC   19 oC   70 %
 PSW   34 oC   24 oC   66 %
  Tuesday, Aug 19 2008
Tue, Jun 17 08, 03:04 PM PST  
  میرہزارخان بجارانی
 بجارانی میر بجار کی اولا دہیں جو میر چاکر خان ثانی کے چھوٹے بھائی تھے۔جیکب آباد کے اولین آبادکاربجارانی انہی میر بجار کی اولاد ہیں۔بجارانی قبیلے کے فرزند میر ہزار خان بجارانی نے سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا اور تاحال سندھ کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ میرہزارخان بجارانی انیس سو چوہتر میں وہ اپنے والد کی خالی کی ہوئی سندھ اسمبلی کی نشست میں رکن منتخب ہوئے اور غلام مصطفی جتوئی کی کابینہ میں ٹرانسپورٹ، مواصلات، ریونیواور اطلاعات کے وزیر رہے ۔ انیس سو ستتر میں بھی وہ صوبائی الیکشن میں کامیاب ہوئے اور مختصر عرصے کیلئے بجلی اور آبپاشی کے وزیر رہے۔ انیس سو ستاسی میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر کا عہدہ سنبھالا ۔انیس سو ستاسی کے بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کے بعد وہ صدارت سے مستعفی ہوگئے اور انیس سو اٹھاسی میں سینٹ کے رکن منتخب ہوئے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد نگراں کابینہ میں وفاقی وزیر صحت مقرر ہوئے جبکہ انیس سواٹھاسی کے عام انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا ۔ انیس سو ستانوے کے انتخابات میں پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں پہنچے جبکہ دو ہزار دو اور دوہزار آٹھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔
 
آج : السلام وعلیکم 
میر ہزار خان بجارانی : وعلیکم السلام
 
آج : آجکل کیا مصروفیات ہیں ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : آجکل تو اپنے حلقے میں لوگوں سے مل رہا ہوں ویسے بھی میر ا ان کے ساتھ کافی رابطہ رہتا ہے میں نے کبھی اپنے حلقے سے رشتہ نہیں توڑا اور حلقے کے لوگ بھی مجھے عزت دیتے ہیں پیار دیتے ہیں ان کی بڑی مہربانیاں ہیں جو باربار مجھے ووٹ دے کر الیکشن میں کامیاب کرواتے ہیں۔
 
آج : کچھ اپنے قبیلے کی تاریخ کے بار ے میں بتائیے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : ہماری اجداد وادی بلیدا سے چلے تھے اور پھر قلات اور سبی سے ہوتے ہوئے سندھ میں داخل ہوئے۔ یہاں پہلے جو ہمارا گاؤں تھا اسے شیرگڑہ کہتے تھے یہاں ہمارا موجودہ گاؤں کرم پور سے آٹھ میل پر واقع ہے پھر اس کے بعد ہمارے پردادا سردار کرم خان وہ یہاں سیٹل ہوئے جہاں آج ہمارا یہ گاؤں ہے بلکہ اب تو یہ چھوٹا سا شہر بن گیا ہے دراصل ہم وہیں سے آئے ہیں اور ہمارا قبیلہ بھی وہیں سے آیا ہے اور اس علاقے میں پھیلاہوا ہے۔ اس وقت بھی ہمارا قبیلہ آادھاسندھ اورآدھا بلوچستان میں ہے ۔ یہاں آنے کے بعد سندھ کی مٹی میں جو تاثیر ہے جو محبت ہے جو کشش ہے کہ ہم نے سندھ کا کلچر اور زبان بھی اپنا لی ہے اور گھل مل گئے ہیں یہاں کے لوگوں کے ساتھ اب کوئی ثقافتی لحاظ سے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
 
آج: کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں گاؤں کرم پور میں پیدا ہوا تئیس اکتوبر انیس سو چھالیس میں ۔
 
آج: کتنے بہن بھائی ہیں اور ان میں آپ کا نمبر کون سا ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : ہم پانچ بہن بھائی ہیں تین بہنیں اور دو بھائی ہیں میں سب سے چھوٹا ہوں ۔
 
آج: بچپن میں سنجیدہ تھے یا شرارتی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں بچپن ہی سے بڑا سنجیدہ رہا ہوں والدین مجھے بتاتے رہے ہیں اور میں اپنی فیملی میں سیریس چائلڈ کے طور پر پہچانا جاتا تھا الگ تھلگ رہتا تھا۔
 
آج: بہن بھائیوں کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : بہت اچھے لیکن دوری کی وجہ سے چونکہ میں بچپن ہی سے اپنے گاؤں سے او ر گھر سے دور رہا ہوں تو جس طرح سے ایک کلوز فیملی میں تعلق ہوتا ہے اس سے میں بڑا محروم رہا۔ لیکن مجھے تب بھی سب پیار کرتے تھے کیونکہ میں سب سے چھوٹا تھا اور دور رہتا تھا۔ تو جب بھی میں گھر آتا تھا تو والدین کے ساتھ ساتھ بہن بھائی بھی مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ چند دنوں کیلئے چھٹی گزارنے کے لئے آیا ہے پھر چلا جائے گا تو اس سے کوئی جھگڑا نہیں کرنا۔
 
آج: والدین میں کس کے لاڈلے تھے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میری والدہ مجھے بہت پیار کرتی ہیں میرے والد صاحب بھی بہت پیار کرنے والے تھے بہت شفیق تھے مگر بچپن سے والدہ کے زیادہ قریب رہا ہوں۔
 
آج: بچپن کی کوئی ایسی چیز جو آپ کے پاس اب تک موجود ہو؟ 
میر ہزار خان بجارانی : انعامات‘ کپس‘ سرٹیفکیٹ اب تک موجود ہیں۔
 
 
 
آج: یقینا بچپن میں کوئی ایسا واقعہ بھی ہوا ہو گا جس کو یاد کر کے اب تک ہنسی آتی ہو؟ 
میر ہزار خان بجارانی : بس ہنسی بھی آتی ہے اور کچھ افسوس بھی ہوتا ہے یہ ہوا کہ کلاس میں ایک دن ڈاکٹر صاحب بچپن سے میرے دوست ہیں تو ہم کلاس میں سب سے آخری ڈیسک پر بیٹھتے تھے اس دن ہم آپس میں کوئی شرارت کر رہے تھے کلاس میں تو ٹیچر نے ہمیں دیکھ لیا ، انہوں نے ہمیں بلایا اور ہماری کلاس کے مانیٹر سے کہا کہ انہیں پرنسپل کے پاس لے کر جاؤ اور وہ پرنسپل کافی سخت تھے تو وہاں جب ہم گئے تو انہوں نے ہم دونوں کی بہت پٹائی کی، وہ پٹائی مجھے آج تک یاد ہے۔
 
آج: آپ کا خاندانی نام بجرانی ہے یا بجارانی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : صحیح تلفظ بجارانی ہے۔
 
آج: ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : ایک سال پرائیویٹ اسکول میں پڑھا کراچی میں نرسری میں، اس کے بعد پھر میں پرائمری تعلیم کوئٹہ میں حاصل کی۔
 
آج: کیسے طالبعلم تھے‘ پڑھنے کا شوق تھا یا جی چراتے تھے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں پڑھائی لکھائی میں کافی تیز تھا اور پوزیشن لیتا تھا۔
 
آج: تعلیمی زمانے میں بھی الگ تھلگ رہتے تھے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : الگ تھلگ تو کوئی انسان بالکل نہیں رہتا میرے دوست بہت لمیٹڈ تھے۔ہر ملنے والے کو میں دوست نہیں سمجھتا۔ اس لئے سوچ سمجھ کر دوستی کرتا ہوں۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں دوستی کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن نبھانا بہت مشکل کیونکہ میں سمجھتا ہوں جب انسان دوستی کرے تو اسے نبھانی بھی چاہئے۔
 
آج: اسکول سے بھاگے کبھی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : جی کبھی کبھی اسکول سے پیریڈ بنک کر کے نکل جاتے تھے۔ کرکٹ کا شوق تھا اس زمانے میں تو میچ دیکھنے چلے جاتے تھے۔
 
آج: کالج کون سا تھا اور کالج لائف کیسی رہی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : نیشنل کالج کراچی سے میں نے پڑھا تھا اور ان دنوں میں یہ کراچی کے اچھے کالجوں میں شامل ہوتا تھا میں اپنے اساتذہ کا بہت شکر گزار ہوں وہ توجہ بھی دیتے تھے اور پڑھاتے بھی تھے۔
 
آج: کیسا محسوس کرتے ہیں جب بچپن کی ان تمام باتوں کو یاد کرتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : مجھے تو بہت اچھا لگتا ہے، اس وقت بہت حسین دور تھا اور ویسے بھی اس زمانے میں نہ کوئی مسئلہ ہوتا تھا اور نہ کوئی دکھ ہوتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ پاکٹ منی ختم ہو جاتی تھی۔لیکن وہ خوشیوں کا دور تھا سوائے خوشیوں کے اسٹوڈنٹ لائف میں کچھ نہیں ہوتا تھا۔
 
آج: کالج میں بھی سیاست کی یا کلاسز لیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : نہیں اتفاق سے کالج میں سیاست نہیں کی ۔میں خود توالیکشن نہیں لڑا لیکن دوستوں کی مدد ضرور کی پر باقاعدہ سیاست نہیں کی۔
 
 
 
آج: کوئی ایسا ٹیچر جنہوں نے کردارسازی میں اہم کردار ادا کیا ہو؟ 
میر ہزار خان بجارانی : نیشنل کالج کے پرنسپل،انہوں نے ہم پربڑی توجہ دی پروفیسر حسنین قاضی صاحب ہوتے تھے انہوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔
 
آج: اسٹوڈنٹس لائف کے تمام دوست اب تک رابطے میں ہیں ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : کافی دوست رابطے میں ہیں بلکہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے رابطہ رہے کچھ تو ایسے ہیں جو کراچی میں ہیں ان سے زیادہ رابطہ رہتا ہے کچھ لاہور شفٹ ہوگئے ہیں اور کچھ کوئٹہ میں ہیں ان کے ساتھ کبھی کبھار رابطہ ہوتا ہے لیکن فون پر بات چیت ہو جاتی ہے۔
 
آج: کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اسکول کالج میں کرکٹ ‘فٹبال اور والی بال کی ٹیم میں ہوتا تھا ۔
 
آج: کبھی کوئی انعام جیتا؟ 
میر ہزار خان بجارانی : جی بالکل جیتا۔
 
آج: اسٹوڈنٹس لائف میں موج مستی بھی کی ہو گی‘ کچھ یاد ہے ایسا کوئی واقعہ ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : موج مستی تو لائف کا حصہ ہوتی ہے جب میں اسکول میں پڑھتا تھا۔ میں نے ضد کی والد صاحب سے کہ مجھے گاڑی دلائیں تو انہوں نے مجھے گاڑی خرید کردی۔ میں بہت ہی چھوٹا تھا جب میں نے ڈرائیونگ بھی سیکھ لی تھی اور وہ عمر ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت گاڑی بھگانے کا بہت شوق ہوتا تھا تو اس وقت میں اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑیاں بھگاتا تھا تو چالان بھی ہوتا تھا وہ سب یاد ہے۔
 
آج: سیاست میں آنے کا شوق تھا یا خاندانی روایت اپنائی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں نے آنکھ تو سیاسی گھرانے میں کھولی میرے دادا بزرگوار وہ بومبے لیجسلیٹو کونسل کے ممبر منتخب ہوتے ہوئے آئے اس علاقے سے اور اس کے بعد پھر انیس سو چھالیس سے انیس سو چوہتر تک تو میرے والد صاحب منتخب ہوتے ہوئے آئے پہلے سندھ اسمبلی اور پھر ویسٹ پاکستان اسمبلی کے ممبر رہے اور پھر جب وہ ٹوٹا تو پھر سندھ اسمبلی اور پھر انیس سو چوہتر میں انہوں نے استعفیٰ دیا اور میں ان کی جگہ بائے الیکشن منتخب ہواتو ایک گھرانہ تو ہمارا سیاسی ہے لیکن بچپن سے میری یہ خواہش نہیں تھی کہ میں سیاست کے میدان میں آؤں۔ میری پہلی خواہش تھی کہ میں ایئرفورس جوائن کروں میرے والد صاحب نے اجازت بھی دیدی تھی لیکن بدقسمتی سے ایئرفورس جوائن نہیں کر سکا کیونکہ میری نظرکمزور تھی اور دوسری خواہش سندھ سروس کی تھی تو پھر میں نے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کی پہلے ہی پیپر میں جتنے طالبعلم تھے انہوں نے اسٹرائک کر دی تو سب درہم برہم ہو گیا اور پھر میں نے سوچا کہ میری قسمت ساتھ نہیں دے رہی تو پھر میرے والد صاحب نے کہا کہ آپ سیاست میں شامل ہو جائیں۔انیس سو اڑسٹھ میں بھٹو صاحب نے پاکستان پیپلز پارٹی بنائی ہم جوان طالب علم بھٹو صاحب کی پارٹی سے بہت متاثر تھے تو میں نے بھی اس وقت پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ انیس سو اڑسٹھ سے میرے سیاسی کیریئر کا آغازہوا۔
 
آج: سیاسی کیریئر میں آپ کہتے ہیں کہ یہ پانی میں ڈبکیوں کی طرح ہے اس کی ذرا وضاحت کریں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : ہوا یہ کہ انیس سو اڑسٹھ میں میں نے پیپلز پارٹی جوائن کی، اس وقت میرا کوئی عہدہ نہیں تھا میں کارکن کے طور پر کام کرتا تھا لیکن ایک رورل ڈویلپمنٹ بورڈ بنا تھا تو بھٹو صاحب نے اس بورڈ کا مجھے ممبر بنایا، میں نے دو سال تک اس بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے کام کیا اور پھر ہوا یہ کہ بھٹو صاحب ایک وفد لے کر امریکا جا رہے تھے تو میں نے بھی درخواست کی کہ میں مجھے بھی ساتھ لے کر چلیں انہوں نے اپنے وفد میں میرا بھی نام ڈال دیا ، ہوا یہ کہ ان دنوں جب وفد جانے لگا تومغربی پاکستان میں اس وقت زلزلہ آیا تھا تو انہوں نے اس وفد میں بندوں کی تعداد کم کر دی اور اس میں سے میرا نام بھی کاٹ دیا گیا کیونکہ ہم امریکا جا رہے تھے تو میرا ویزہ لگ چکا تھا پھر میں اپنے طور پر امریکا گیا۔اسی دوران پھر بھٹو صاحب تو واپس آ گئے لیکن میں کافی دن امریکا میں رہا پھر میرے والد صاحب نے بھٹو صاحب سے درخواست کی میرا بیٹا آپ کی پارٹی میں بھی ہے اور پڑھا لکھا بھی ہے تو میں اپنی سیٹھ سے استعفیٰ دیتا ہوں اگر آپ میرے بیٹے کو صوبائی کابینہ میں لے لیں تو اس کیلئے منتخب ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے،اس پر بھٹو صاحب راضی ہوگئے اور میرے والد صاحب نے انیس سو چوہتر میں جب سندھ کی حکومت تبدیل ہوئی تھی ممتاز بھٹو چلے گئے وفاق میں اور جتوئی صاحب وزیر اعلیٰ بنے اس وقت میں انڈکٹ ہوا۔
 
آج : آپ کے والد نے یہاں پر کہا کہ ان کو جیتنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو کیا یہ موروثی سیاست نہیں ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میرے والدصاحب ہمیشہ یہاں سے جیتتے آئے تھے تو یہ ان کی سیٹ تھی ، اس لئے انہوں نے کہا کہ ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
 
آج : انیس سو چوہتر میں آپ ٹرانسپورٹ مواصلات کے وزیر رہے،بہتری کے لئے کیا اقدامات کئے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اصل میں ٹرانسپورٹ میں انہی دنوں میں ہم نے بہت بڑی فیڈ بسوں کی کراچی میں میرے دور میں انڈکٹ ہوئی اور ہم نے کافی اسٹاف انڈکٹ کیا لیکن انہی دنوں میں تین سال تک قید پڑا تھر میں کیونکہ میں ریونیو کا بھی منسٹر تھا تو لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ کافی سالوں بعد کوئی منسٹر خود انہیں وہاں دیکھنے گیا تھا تو میں سمجھتاہوں کہ یہ بہت اچھی بات ہے ۔
 
آج : اتنی وزارتیں ایک آدمی کو دی جاتی ہیں کیایہ صرف بھرتی کیلئے ہوتی ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اس وقت جوکابینہ تھی و ہ تقریبا ًبارہ وزراء پر مشتمل تھی اس میں سارے پیپلز پارٹی کے ہی تھے۔ بھٹو صاحب نے یہ کرائیٹریا رکھا ہوا تھا کہ کیبینیٹ چھوٹی ہو اور انکی پھر نظر بھی رہتی تھی اور کام بھی ہوتا تھا ظاہر ہے پھر یہ کہ وزارتیں زیادہ تھیں تو تقسیم کرکے منسٹرز کو دے دی جاتی تھیں۔
 
آج : انیس سو ستتر میں آپ مختصر عرصے کے لئے بجلی اور پانی کے وزیر رہے تو اس کی اتنی کم مدت کیوں تھی ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : یہ اسلئے تھا کہ انیس سو ستتر میں بھٹو صاحب نے الیکشن کروائے تھے ، حکومت ہماری بنی میں انڈکٹ ہوا سندھ میں لیکن انہی دنوں میں پی این اے کی تحریک شروع ہو گئی اور لوگ سڑکوں پر آنا شروع ہوگئے ۔یہ تین مہینے اسی افراتفری میں گزرے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ جنوری انیس سو ستتر کو پورے پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا، جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھال لیا اور حکومت تحلیل ہو گئی۔
 
آج: انیس سو نوے میں آپ نواز شریف کی کابینہ کا حصہ رہے اس کے بعد صدرغلام اسحق اور نواز شریف کے درمیان اختلافات بڑھ گئے اور آپ نے علیحدگی اختیار کی اور غلام اسحق خان کی کابینہ کے ممبر بن گئے۔ 
میر ہزار خان بجارانی : اصل میں انیس سو نوے کا جو الیکشن تھا میں بحیثیت آزاد امیدوار کے لڑا تھا اور اس وقت نواز شریف صاحب پنجاب کی اسٹرنتھ بل بوتے پرپرائم منسٹر بنے ، انہیں سندھ کو ظاہر ہے نمائندگی دینی تھی پھر انہوں نے انڈی پنڈنٹ کو یہاں سے اپنی کابینہ میں شامل کیا اور اس میں میں بھی شامل ہوا۔
 
آج: انڈی پنڈنٹ کو یہ ایڈوانٹیج نہیں ہوتا کہ وہ جیت جاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ کہاں حکومت بن رہی ہے اور وہ اس کا پارٹ بن جاتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میرے پاس اس وقت دو آپشن تھے یا تو میں مسلم لیگ جوائن کرتا یا میں انڈی پنڈنٹ لڑتا تو میں نے پریفر کیا کہ میں انڈی پنڈنٹ لڑوں اس وجہ سے نہیں کہ مجھے کوئی فائدہ ہو گا اس سے بلکہ اس وجہ سے کہ میں یا پیپلز پارٹی میں رہتا یا انڈی پنڈنٹ میں پولیٹکس کرتا پھر میں نے اسے پریفر کیا اور اس لحاظ سے میں پھر کابینہ کا حصہ بھی بنا لیکن کابینہ میں رہتے ہوئے بھی میں نے پیپلز پارٹی کے خلاف یا محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف کوئی اسٹیٹمنٹ نہیں دیا یا کوئی تقریر یا کوئی ایسی بات نہیں کی۔
 
 
 
آج: ایک دفعہ پھر غلام مصطفی جتوئی کی کابینہ میں آپ وزیر رہے، نگراں وزیر آپ زیادہ رہے اس کی وجہ کیا ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : جتوئی صاحب کی کیبنٹ میں میں رہا تھا ، جب وہ نگراں وزیر اعظم بنے تو انہوں نے مجھے دعوت دی اس وقت تک میں انڈی پنڈنٹ تھا تو میں نے ان کی دعوت قبول کی میں نے سوچا کہ میں ان کے ساتھ آسانی سے رہ سکوں گا اور کام بھی کر سکوں گا لیکن اس میں بہت شارٹ پیریڈ ہوتا ہے زیادہ کام کرنے کا موقع نہیں ملتا لیکن میں کیئر ٹیکر منسٹر بنا ۔
 
آج: کیوں بنے کیئر ٹیکر اکثر؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اکثر ان کی نظر مجھ پر پڑتی تھی تو وہ مجھے دعوت دیا کرتے تھے بلاتے تھے اور میں بن جاتا تھا۔
 
آج: انیس سوستانوے کا الیکشن آپ نے پیپلز پارٹی شہیدبھٹو کی جانب سے لڑا ، پیپلز پارٹی اس وقت چھوڑ دی تھی یا انہوں نے ٹکٹ نہیں دیا تھا؟ 
میر ہزار خان بجارانی : نہیں میں نے اس وقت پیپلز پارٹی چھوڑ دی تھی پیپلز پارٹی کے کینڈی ڈیٹ کے خلاف الیکشن لڑا تھا اور میں جیتا تھا لیکن میں اپوزیشن میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی بیٹھا۔
 
آج: آپ کے سیاسی کیریئر میں سیاسی وفاداری نظر نہیں آتی، رولنگ اسٹون والا رول دکھائی دیتا ہے دوہزاردو میں آپ پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور یہ حالیہ الیکشن آپ نے پیپلز پارٹی سے جیتا۔ 
میر ہزار خان بجارانی : نہیں اس میں رولنگ اسٹون والی بات نہیں ہے رولنگ اسٹون تو آپ اس کو کہیں گے جو مختلف پارٹیوں سے ہوتا ہوا آئے میں نے عرض کیا نا کہ میں پیپلز پارٹی میں ہی رہا ہوں بھٹو فیملی کے ساتھ ہی رہا ہوں۔
 
آج: محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ تعلقات کیسے رہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میرے بہت اچھے تعلقات رہے ان کا اعتماد رہا اور بڑی عزت ملتی تھی مگر وہ ہر ایک فیملی کو اچھی طرح جانتی تھیں لوگوں کے بیک گراؤنڈ سے واقف تھیں اور ان سے لوگ خوش بھی تھے۔ اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ دے بہت بڑا ظلم کیا ہے ظالموں نے انہیں شہیدکرکے۔
 
آج: ان کے بعد پارٹی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : ظاہر ہے زرداری صاحب کودشواریاں تو ہوں گی شروع میں، ایک بہت بڑا گیپ ہے اسے فل کرنا ایک مشکل کام ہے لیکن کوشش وہ کر رہے ہیں پارٹی ان کے ساتھ کھڑ ی ہے ورکر زان کے ساتھ کھڑے ہیں اور جن لوگوں نے اپنی ساری زندگیاں اس پارٹی کو مضبوط بنانے میں صرف کر دی ہیں وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پیپلز پارٹی کمزور ہو۔
 
آج: بلاول بھٹوزرداری کا چیئرمین بننا آپ کے نزدیک کیسا ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : یہ ایک ٹرینڈ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کو تو چھوڑیئے اور پارٹیز میں بھی،برصغیرمیں بھی، نہرو خاندان میں آپ دیکھ لیں کانگریس میں کس طرح سے ان کی بالادستی رہی ہے۔
 
آج: گیلانی کو امین فہیم پرفوقیت دینا آپ کے نزدیک کیسا ہے ،سندھ میں پیپلز پارٹی کی ساکھ خراب ہو گی اس سے؟  
میر ہزار خان بجارانی : سندھ کے لوگوں کی خواہش یقینا یہی تھی کہ مخدوم امین فہیم پرائم منسٹر بنیں خاص طرح سے محترمہ کی شہادت کے بعد لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ پرائز پوزیشن جو ہے سندھ کو ملنی چاہئے لیکن پارٹی کا فیصلہ ہے وہ لوگوں نے بھی قبول کر لیا ہے مخدوم امین صاحب نے بھی قبول کر لیا ہے ہم دعا گو ہیں کہ پارٹی مضبوط رہے۔
 
آج: آپ نے نواز شریف صاحب کے ساتھ بھی کام کیا اور اب آصف زرداری صاحب کے ساتھ بھی کام کررہے ہیں،ان دونوں کی ہم آہنگی دیرپا ثابت ہو گی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : دیکھیں جی بنیادی طور پر تو دونوں پارٹیز کے منشور الگ ہیں ،پروگرام الگ ہیں، ان کا کلچر الگ ہے، بہت سارے اختلافات اپنی جگہ پر موجود ہیں لیکن چند باتیں ایسی ہیں جن پر دونوں کا اتفاق ہے اور جس طرح سے دونوں ایک اسپرٹ سے چل رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں ،اس سے ایک اچھی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے اور اداروں کو مضبوط کرنے میں اگر ان کا کنٹرول رہا اور یہ کرنے میں یہ کامیاب ہو گئے میں سمجھتا ہوں اس ملک کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔
 
آج: عام خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کام نہیں کرنے دیتی، آپ دو مرتبہ وزیر رہے اس میں کتنی صداقت ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اس میں بالکل حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر بدقسمتی سے پارلیمنٹ کو ،منتخب لوگوں کو فری ہینڈ نہیں دیا گیا اگر دیا بھی گیا تو تھوڑے عرصے کے لئے اورپھر ٹانگ کھینچ لی جاتی ہے۔
 
آج: اپنے علاقے کی بہتری کے لئے کیا اقدامات کئے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : جب بھی فنڈز مہیا کئے گئے ہیں ہم نے ڈویلپمنٹ کے لئے انہیں استعمال کیا ہے لیکن پچھلے دس بارہ سال سے ہم تو اپوزیشن میں ہی رہے۔ اپوزیشن کو تو بدقسمتی سے کوئی گھانس نہیں ڈالتا نہ فنڈز ملتے ہیں نہ ہم لوگوں کی ڈویلپمنٹ کیلئے کوئی کام ہوتا ہے۔
 
 
 
آج: خود کو کیسا محسوس کرتے ہیں کیسا پاتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : دیکھیں جی میں مکمل مطمئن تو نہیں رہا اپنے پولیٹیکل رول سے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جو ہمارے خواب تھے ،جوہماری خواہشات تھیں، جو ہم نے ذہن میں خاکہ بنا رکھا تھا کہ ہم پاکستان میں اس طرح سے ایک ماحول دیں گے، جمہوریت ہو گی تو وہ نہیں کر سکے تومیں اورمیرے ساتھی تشنگی سے محسوس کرتے ہیں۔
 
آج: اپنی کون سی عادت پسند ہے اور کون سی ناپسند؟ 
میر ہزار خان بجارانی : ایک تو برداشت کا بہت مادہ ہے مجھ میں، لوگوں کی کڑوی باتیں بھی میں خوشی سے برداشت کر جاتا ہوں۔بری عادتوں میں آپ اسے بری عادت کہیں یا اسے اچھی کہیں جو مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں لوگ میں اسے پھر کبھی بھلاتا نہیں ہوں۔
 
آج: کس جگہ ہر وقت جانے کو تیار رہتے ہیں ؟کون سا ایسا مقام ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں اپنے والدین کی قبر پر جاتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ وہاں جاؤں اورفاتحہ کروں؟
 
آج: بچے کتنے ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : بچے ماشاء اللہ پانچ ہیں، تین بیٹیاں ہیں دو بیٹے ہیں سب کی شادیاں ہو چکی ہیں سب سیٹل ہیں۔ ایک بیٹا تو پچھلے دور میں ضلع ناظم بھی رہا ہے انشاء اللہ اب آگے ارادہ یہی ہے کہ میں اسے آگے لے کر آؤں گا۔
 
آج: آپ کی تاریخ پیدائش ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : تئیس اکتوبر انیس سو چھیالیس ہے ۔
 
آج: ستاروں پر یقین رکھتے ہیں کبھی کسی کوہاتھ دکھایا ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : یقین تو نہیں رکھتا اللہ پاک کی ذات پنجتن پاک پر میں یقین رکھتا ہوں لیکن علم تو ہے۔
 
آج: لبرل ہیں یا شدت پسند؟ 
میر ہزار خان بجارانی : نہیں میں شدت پسندکبھی نہیں رہا میرا بیک گراؤنڈ ،میری لوکیشن ،میں جس ماحول میں پلا میں لبرل خیال کا انسان ہوں۔
 
آج: غصہ آتا ہے؟ اگر آتا ہے تو کیسے کنٹرول کرتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : غصہ بہت کم آتا ہے اگر آتا ہے تو بہت زیادہ آتا ہے لیکن میں اسے کوشش کرتا ہوں کہ کنٹرول کروں۔
 
آج: کھانے میں کیا پسند ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : مجھے دال چاول بڑا پسند ہے اور کھانے میں میں بالکل فصیح نہیں ہوں سبزیاں شوق سے کھاتا ہوں۔
 
آج: کبھی خود بھی پکاتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : کوشش کرتا ہوں لیکن بگڑ جاتی ہیں ۔
 
آج: لباس کس طرح کا پسند ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : شلوار قمیض زیادہ میں پہنتا ہوں اس میں ایزی بھی رہتا ہے اور ہمارے علاقے کی پہچان بھی ہے۔
 
آج: خوشبو لگاتے ہیں پرفیوم وغیرہ ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : الامس مجھے اچھی لگتی ہے ۔
 
 
 
آج: ملنے جلنے والے ہیں یا تنہائی پسند؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں نے بتایا نا جی کہ بچپن سے میں تنہائی پسند تو ہوں وہ نیچر میں ہے لیکن سیاست میں عوامی ہونا پڑتا ہے ۔میرے یہاں میلا لگا رہتا ہے صبح بھی شام بھی لوگ آتے ہیں سب سے ملتا ہوں ۔
 
آج: موسیقی پسند ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : موسیقی مجھے بہت پسند ہے ۔مجھے شاعری پسند ہے ۔
 
آج: کون سے شاعر؟ 
میر ہزار خان بجارانی : احمد فراز صاحب میرے اس دور کے فیورٹ شاعر ہیں ویسے میر تقی میر۔
 
آج: کس قسم کی موسیقی سنتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : کلاسیکل کا مجھے زیادہ شوق ہے اور غزل مجھے بہت پسند ہے؟
 
آج: کس گلوکار یا گلوکارہ کوشوق سے سنتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : مہدی حسن اور غلام علی میرے فیورٹ گلوکار ہیں ،ویسے جگجیت سنگھ بھی مجھے بہت پسند ہیں۔
 
آج: فلمیں دیکھتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : بچپن میں بہت فلمیں دیکھتا تھا ،اب وقت نہیں ملتا۔
 
آج: کون سی فلم یاد رہی؟ 
میر ہزار خان بجارانی : مغل اعظم ،وہ میری فیوٹ فلم ہے۔
 
آج: کون سا اداکار پسند ہے ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اس وقت تو آج کل میں فلمیں بہت کم ہی دیکھتا ہوں تو پرانے حساب سے تو دلیپ کمار مجھے پسند تھے اس کے بعد پھر امیتابھ بچن۔
 
آج: جوانی میں کسی اداکارہ پر دل تو آیا ہو گا ؟ 
میر ہزار خان بجارانی : خوبصورت چہرے کسے پسند نہیں ہوتے۔
 
آج: عاشق مزاج ہیں، عشق کیا آپ نے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اچھی چیزیں اچھی لگتی ہیں عشق تو اس انداز سے خیر نہیں کیا لیکن یہ ہے کہ اپنے پروفیشن سے عشق کیا ہے اور اپنی فیملی سے ۔
 
آج: شادی ارینج تھی یا لو میرج؟ 
میر ہزار خان بجارانی : ارینج۔
 
آج: ملک کون سا پسند ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : اپنا ملک سب سے زیادہ پسند ہے لیکن میں گھومنے کا بہت شوقین ہوں کافی دنیا میں نے دیکھی ہے ۔
 
آج: روزمرہ زندگی میں جھوٹ تو بولنا پڑتا ہے۔ جھوٹ بولتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : جھوٹ سے میں بہت پرہیز کرتا ہوں جھوٹ اس لئے میں نہیں بولتا جھوٹ بولنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا اور جھوٹ پکڑا بھی جاتا ہے۔
 
آج: کوئی ایسا کام جو کرنا چاہتے ہوں اور نہ کر سکے ہوں۔ 
میر ہزار خان بجارانی : میری حسرت تھی کہ میں فائٹر پائلٹ بنوں لیکن نہیں بن سکا سول سرونٹ بننے کی حسرت تھی وہ بھی نہیں بن سکا قدرت نے مجھے پولیٹیشن بنا دیا۔
 
آج: ذریعہ معاش کیا ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : بنیادی طورپر زمینداری،اس کے علاوہ میری دو ملیں بھی ہیں ،باقی کچھ پراپرٹی وغیرہ ہے۔
 
آج: زمینیں کتنی ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : زمینیں فیملی کی ہیں ماشاء اللہ ڈیڑھ سو ایکڑ فی کس۔
 
آج: کتابیں پڑھتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے ۔
 
آج: کون سا رائٹر پسند ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں اکثر انسائیکلو پیڈیا پڑھتا ہوں تو اس میں تو مختلف آتھرزہوتے ہیں مختلف رائٹر زکی بھٹو صاحب کی کتابیں میں نے بہت پڑھی ہیں جو انہوں لکھی ہیں وہ ساری پڑھی ہیں۔
 
آج: خود کو اگر دو لفظوں میں بیان کرنا ہو تو کیسے کریں گے؟  
میر ہزار خان بجارانی : مانا کہ ہم نہ پھیر سکے آندھیوں کا رخ۔۔۔۔۔۔یہ تو ہوا کہ ان کے مقابل ٹھہر گئے
 
آج: سیاست سے ریٹائر منٹ کا ارادہ ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : بالکل ہے جی انشاء اللہ آئندہ الیکشن میں میرا بیٹا لڑے گا ظاہر ہے کسی نے تو جگہ لینی ہے تو فیملی کی سیٹ ہے تو بیٹا ہی رہے گا۔
 
آج: سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ لکھنے کا ارادہ ہے؟ 
میر ہزار خان بجارانی : میں چاہوں گا کہ اپنی یادداشت پر ایک کتاب لکھوں۔
 
آج: پاکستان کے مستقبل میں کیسا دیکھتے ہیں؟ 
میر ہزار خان بجارانی : پاکستان انشاء اللہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور قائم رہے گا ۔ مجھے امید ہے اور ہماری دعا بھی ہے کہ یہاں ادارے مضبوط ہوں گے، پاکستان کے عوام خوشحال ہوں گے اور یہ دکھ جو اس وقت ہماری قوم دیکھ رہی ہے انشاء اللہ یہ سارے دکھ دور ہوں گے۔ جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے وہ ہم نے کیا اب آگے آنے والی نسلیں کام کریں گی ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کو مکمل کامیابی نصیب کرے ۔
 
آج : بہت شکریہ بجارانی صاحب آپ کا کہ آپ نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا اوراپنے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ 
 
 
02:00 PM
03:00 PM
 
| | | | |
Home News Entertainment Infotainment Current Affairs Schedule Downloads
Sell your Programmes Terms of Service Privacy Statement Privacy Statement Careers Contact Us FAQs
Powered by e-dynamics
Copyright AAJ TV © 2008 All rights reserved