 |
| Fri, Feb 01 08, 05:52 PM PST |
|
|
سیاسی ہم آہنگی کے تسلسل کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے ؟
حالیہ انتخابات کے بعد ایک نئی صورت حال قوم کے سامنے آئی ہے ۔شاید ہی کسی سیاسی تجزیہ نگار یا سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص نے یہ سوچا ہوگا کہ انتخابات کا اختتام پاکستان پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن کے اتحاد اوریکجہتی پر ہوگا۔ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بلا شبہ یہ ایک اہم اورمثبت پیش رفت ہے ۔دوسری جانب ان دونوں سیاسی جماعتوں کا ماضی دیکھتے ہوئے اکثر حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ اتحاد دیرپا ثابت نہیں ہوگا،یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ بے شک سیاسی ہم آہنگی اچھی چیزہے لیکن حکمراں اتحاد میں شامل جماعتیں کئی امور پر علیحدہ موقف رکھتی ہیں اس لئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔وطن عزیز ویسے ہی مشکلات سے دو چار ہے ، ان حالات میں سیاسی رقابتوں کا بوجھ یہ قوم مزید برداشت نہیں کر سکتی ۔آپ کے نزدیک ایسے کن اقدمات کی ضرورت ہے کہ یہ ہم آہنگی برقرار رہے اورہماری قیادت کو باہمی اختلافات سے بلند ہو کر جمہور اورجمہوریت کی خدمت کر سکے۔ |
| Comments |
|
| |
| صدرکااستعفیٰ اورعدلیہ کی بحالی |
|
میرے خیال میں سیاسی ہم آہنگی دوباتوں کے بغیر شایدناممکن ہوگی۔ایک تو یہ کہ ملک کی عوام کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف کرنے والی قوتوں کواب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ صدرمشرف کب اورکیسے مستعفی ہوں گے ،دوسری بات یہ ہے کہ اگر دو نومبردوہزارسات والی عدلیہ کو جلد از جلد بحال کیاجائے اگریہ دونوں کام فوری طور پر نہ کیے گئے تو خداناخواستہ سول وارکو کوئی نہیں روک سکے گااورایسی صورت میں سیاسی ہم آہنگی ناممکن ہے،جس کا فائدہ پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں کو ہوگا۔ |
| |
| Bilal Khan, Lahore |
| April 25, 2008, 03:40 PM |
|
| |
| اعتماد کی بحالی |
|
ہمیں جمہوریت کو سپورٹ کرنا چاہئے اورچھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظراندازکرکے اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔ |
| |
| Attaullah Khattak |
| April 24, 2008, 05:01 PM |
|
| |
|
|
ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کا اکٹھا ہونا ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گا ۔جس کی ایک بڑی مثال آصف زرداری کامتحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو کا دورہ کرنا ہے اور یہ نہ صرف کراچی کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس کے سندھ پر بھی بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے ۔پاکستان کی معیشت کراچی پر منحصر ہے ۔ میں دونوں جماعتوں کو مبارکبا د پیش کرتا ہوں او ر انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ یہ مل کر کام کریں گے۔
|
| |
| Ejaz Qureshhi |
| April 21, 2008, 04:44 PM |
|
| |
|
|
حکمرانوں کو سابقہ دشمنیاں بھلا دینی چاہئے لیکن ان چیزوں پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہئے جو ملکی استحکام کیلئے نقصان دہ ثابت ہوں اور انہیں ملکی مسائل کو ذمے داری سمجھ کر حل کرنا چاہئے۔
|
| |
| M.AKRAM |
| April 21, 2008, 02:02 PM |
|
| |
|
|
میرا حکومت کیلئے مشورہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے مت لڑیں ۔ اس وقت تمام پارٹیاں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجانا چاہئے اور تمام اقدامات دوستانہ ماحول میں اٹھائے جائیں۔ یہ وقت بہت کٹھن ہے،ماضی کوبھلاکر ملک کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی خدمت کریں ۔
|
| |
| hira |
| April 21, 2008, 05:13 PM |
|
| |
|
|
میری رائے کے مطابق اگر یہ حکومت جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتی تو عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن کو مکمل آزاد کرے۔ |
| |
| saifullah khan |
| April 21, 2008, 07:27 PM |
|
| |
|
|
#یہ ہمارے سیاستدانوں کے رویے پر منحصر ہے کہ اگر وہ سختی سے بات چیت کرتے ہیں اور دوسروں پر تنقید کرتے ہیں تو پارٹی کارکنا ن کیسے صبر کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جو کہ ہماری لیڈرشپ کا غیر سنجیدہ رویہ ہے۔
|
| |
| Raja Wasim |
| April 21, 2008, 06:32 PM |
|
| |
|
|
صدر پرویز مشرف کو چاہئے کہ عوام کے ساتھ مل کر اپنے دشمنوں کا مقابلہ کریں ۔عدلیہ کی بحالی ہمارے ملک اور عوام کیلئے بہت ضروری ہے ۔
|
| |
| Khalid Rashid |
| April 21, 2008, 07:33 PM |
|
| |
|
|
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی عوام بہت بہادر ہے اور وہ پاکستان کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔اگر ہمارے لیڈر اٹھ کے قوم کیلئے متحدہ ہو جائیں۔اگر ہماری لیڈر شپ اکٹھی ہوجائے تو ہم ہر قسم کا تعاون ان کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں ۔ زندگی کی کسی بھی فیلڈ میں ہماری قوم کاکوئی ثانی نہیں۔ میڈیا کو حکومت کے اچھے اقدامات کو منظر عام پر لانا چاہئے، جیساکہ جب ہم چائنیز، جرمن، کورینز سے ملتے ہیں تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم دنیا کی عظیم ترین قوم ہیں۔ |
| |
| Muhammad Mansha |
| April 21, 2008, 07:36 PM |
|
| |
|
|
عوام ووٹ ڈال چکے ہیں اور امیدواروں کو عوام کی پسند معلوم ہو چکی ہے۔ اب جیتنے والوں کافرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان کے لوگوں کی خدمت کریں اور ملک کا نام روشن کریں اور ججوں کی بحالی اور میڈیا کی آزادی کیلئے کام کریں۔
|
| |
| tahira yasmin |
| April 21, 2008, 07:40 PM |
|
| |
|
|
سیاسی ہم آہنگی کیلئے سب سیاسی پارٹیوں کو ساتھ مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہئے اور ایک دوسرے پر الزامات نہیں لگانے چاہئے ۔
|
| |
| Ali Adnan |
| April 17, 2008, 02:47 PM |
|
| |
|
|
وقت کی ضرورت ہے کہ وزیر اعظم اور صدر مشرف دونوں مل کر چلیں اور ان لوگوں سے اجتناب برتیں جو آپس میں دونوں کو لڑوانا چاہتے ہیں ، اس وقت صدر مشرف اور پیپلز پارٹی دونوں ملک کی ضرورت ہیں ۔ مہربانی کرکے دونوں مل کر کام کریں۔
|
| |
| AKRAM DURANI |
| April 17, 2008, 02:25 PM |
|
| |
|
|
وقت کی ضرورت ہے کہ وزیر اعظم اور صدر مشرف دونوں مل کر چلیں اور ان لوگوں سے اجتناب برتیں جو آپس میں دونوں کو لڑوانا چاہتے ہیں ، اس وقت صدر مشرف اور پیپلز پارٹی دونوں ملک کی ضرورت ہیں ۔ مہربانی کرکے دونوں مل کر کام کریں۔
|
| |
| ejaz chughtai |
| April 17, 2008, 02:45 PM |
|
| |
|
|
سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے مگر ماضی کو یاد رکھنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جو لوگ بھول جاتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے ملک کا مفاد سب سے اہم ہونا چاہئے۔
|
| |
| yousuf raza |
| April 17, 2008, 02:20 PM |
|
| |
|
|
ہم آہنگی ایک اچھا جملہ ہے۔ میرے ایمان کے مطابق کوئی بھی سچا مسلمان تب تک نہیں ہوسکتا جب تک وہ حضور ﷺ کے کسی ایک فرمان سے بھی روگردانی کرے ۔ آج ہم کیا کررہے ہیں سندھی، مہاجر، بلوچ ، پنجابی، پٹھان کی دوڑ میں لگے ہیں جب تک یہ صوبائی عصبیت ختم نہیں ہوگی ہم آہنگی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ،پہلے ان تعصبات کو ختم کرو ، ایک قوم بنو پھر بات کرنا ہم آہنگی کی۔
|
| |
| Raja Zulfiqar Ali |
| April 17, 2008, 02:00 PM |
|
| |
|
|
یہ بات تو عوام کو پہلے ہی معلوم تھی کہ یہ دونوں جماعت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنے وقت کی بدعنوان جماعت رہی ہیں ۔یہ دونوں طبقے نسل در نسل چلتے آرہے ہیں کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ کب پاکستان میں کوئی ایسا آئے جس کا دل صرف پاکستان کی محبت سے سرشار ہو ،جو واقعی پاکستان کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہو ۔ یہ لوگ تو صرف اپنی جیب بھرنے آئے ہیں جب ایک کی بھر جائے گی تو دوسرے کی باری آجائے گی ۔ حکمرانوں سے میری صرف ایک ہی درخواست ہے کہ ان کے اوپر بھی ایک حاکم ہے جو سب دیکھ رہا ہے اور وہ جلد تمہارے دلوں میں چھپا کینہ اور بغض کا حساب لے گا تب تم کو کوئی پروٹوکول نہ بچاسکے گی۔ |
| |
| Ameen Ahmed |
| April 17, 2008, 01:29 PM |
|
| |
|
|
اس وقت سب جماعتوں کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں ۔قوم نے ان کو جو مینڈیٹ دیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔
|
| |
| azhar |
| April 17, 2008, 02:52 PM |
|
| |
|
|
وقت کی ضرورت یہ ہے کہ مفاہمت کے ساتھ جمہوریت کی طرف بڑھا جائے اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے اجتناب کیا جائے۔
|
| |
| Raja Wasim |
| April 16, 2008, 08:33 PM |
|
| |
|
|
سب سے پہلے پولیس کا محکمہ ختم کرنا چاہئے کیو نکہ یہ سب سے بڑے چور اور ڈاکو ہیں یہی ملک کو تباہ کررہے ہیں اور ان کے کالے کرتوتوں کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے اور بیچاری عوام تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں ۔
|
| |
| Kazim Hussain |
| April 16, 2008, 09:05 PM |
|
| |
|
|
بیس سال سے سن رہا ہوں نظام آئے گا۔ ہماری قوم صرف پانچ سال تک کی یادداشت رکھتی ہے باقی پہلے کی بھول جاتے ہیں ابھی بھی وہی ہوگا۔ جب تک ہم لسانیت کا شکار رہیں گے یہ ملک بھی ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔ اکیسویں صدی میں ہیں اور وہی لسانیت کی باتیں کرتے ہیں۔ سب انفرادیت کا سوچتے ہیں جس دن ہماری قوم میں اجتماعیت کی بات آئے گی اس وقت ہر طرف ہم آہنگی ہوگی۔
|
| |
| JAFRI |
| April 16, 2008, 08:58 PM |
|
| |
|
|
تمام پارٹیوں کو ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہو گا مگر احترام کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس میں ملکی مفاد داوٴ پر لگ جائے ۔
|
| |
| muhammad yousuf raza |
| April 16, 2008, 08:08 PM |
|
| |
|
|
میرے خیال سے ہم نے اپنے ساتھ دھوکا کیا ہے کیونکہ ہم نے اسلام کے نام پر یہ ملک حاصل کیا اور آج تک ہم اس ملک میں اسلام کا قانون نافذ نہیں کرسکے۔ جس کی سزا آج تک ہمیں مل رہی ہے ۔ میرے خیال سے پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ ہم خدا کے ساتھ کیا ہو ا اپنا وعدہ پوراکریں ۔
|
| |
| umer farooq |
| April 16, 2008, 08:45 PM |
|
| |
|
|
نئی حکومت جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے لیکن وہ بہت سارے چھوٹے مسائل کے بجائے بڑے مسائل کی طرف توجہ دیں۔
|
| |
| Asif Zaman |
| April 16, 2008, 07:56 PM |
|
| |
|
|
میرے خیال سے جمہوریت کا نظام آمریت کی وجہ سے ہمیشہ برباد رہا ہے ۔بیوروکریسی اور لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک بن کے سامنے آئے۔اگر کوئی حکومت کو صحیح اور بہتر چلانے میں ناکام رہا ہے اس کامطلب ہے اس نے جمہوریت کا قتل کیاہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک شخص کی حکومت رہی ہے جس میں انہوں نے بہت سارے غلط فیصلے کئے ہیں ۔ اگر ایک شخص اپنے دورے حکومت میں متعدد بار جھوٹ کا سہارا لے چکا ہو تو اسکے سچ پر کون یقین کرے گا۔میرے مطابق اس مسئلے کا حل عوام اور مذاکرات ہیں۔ |
| |
| HAROON UR RASHEED |
| April 16, 2008, 07:10 PM |
|
| |
|
|
جناب میں سب سے پہلے ایک مسلمان ہوں اور پھر پاکستانی ۔میں ایک اسٹور کا انچارج ہوں اور کافی عرصے سیاست سے بھی منسلک رہا ہوں۔میں یہ اب کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ دو بڑی پارٹیوں میں سے کسی ایک کو بھی اقتدار ملنا چاہئے اگر کوئی کہتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے ان دونوں پارٹیوں نے سبق سیکھا ہے تو میں یقین نہیں کروں گا۔میرا اصل مقصدہے آپ کی رائے میں شریک ہوناہے اور میں یہی کہوں گا کہ صدر مشرف نہ صرف اس ملک کیلئے ضروری ہیں بلکہ وہ پاکستان کی ضرورت ہیں۔ |
| |
| Mohammed Tariq Ansari |
| April 16, 2008, 06:25 PM |
|
| |
|
|
سب سے پہلے مشرف صاحب کو محفوظ راستہ دے کر ان سے جان چھڑ وانی چاہئے او رپھر سب مل کر حکومت بنائیں ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم ہاوٴس سے باہر آکر لوگوں کی فریاد سننی ہو گی تب جاکے کوئی کام ہو گا سب کے کام میرٹ پر ہونے چاہئیں سفارش پر نہیں۔
|
| |
| sajjad |
| April 16, 2008, 05:39 PM |
|
| |
|
|
پاکستان کی صورتحال آج ایسی ہے کہ ہر فرد اپنی بے ساکھیوں پر کھڑا ہے اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہے ۔پاکستان میں ہر سیاسی لیڈر کو کسی نہ کسی سے تحفظات ہیں اور اپنی لیڈر شپ چمکانے کیلئے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے گریز نہیں کررہے ہیں ۔یہ سب اپنی سیٹوں اور اپنے مفاد کی خاطر سب کچھ کرتے ہیں ۔عوام کو صرف لولی پوپ دے کر خاموش کر دیتے ہیں ۔ اگر ماضی میں جائیں تو سب کا احتساب کرنا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ احتساب کون کرے گا تو جواب آئے گا کہ سب بھول جاوٴ ، جس ملک میں ایسے لوگ ہوں ان کو سخت سزا دی جائے تاکہ عام انسا ن کو سکون ملے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ قومی حکومت بنے اور سب پارٹیوں کو حکومت میں ہونا چاہئے تاکہ ایک دوسرے کا احتساب کریں اور پاکستان کو نقصان سے بچا یا جاسکے ۔ |
| |
| anwar |
| April 16, 2008, 09:20 PM |
|
| |
|
|
انتقامی سیاست کا خاتمہ اولین شرط ہے ،جس طرح ن لیگ اورپی پی پی اپنا ماضی بھلا کر آج ایک ہیں ،اسی طرح ان دونوں جماعتوں کو ق لیگ کے حوالے سے بھی اپنا نظریہ بدلنا ہوگا اوران کو قومی دھارے میں شامل کرتے ہوئے فیصلے کرنے ہوں گے ۔محترم وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ایوان سے متفقہ طور پر اعتماد کا ووٹ لینا ق لیگ کی جانب سے پہلا قدم ہے اب گیند نواز اورزرداری کے پاس ہے۔امید ہے کہ یہ دونو ں رہنما جس طرح قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں ،اس ضمن میں بھی وہ مثبت فیصلہ ہی کریں گے ۔ |
| |
| Ali Rahman |
| April 15, 2008, 07:41 PM |
|
| |
|
|
سیاسی ہم آہنگی کے عمل کا تسلسل صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہمارے رہنما ماضی کو بھول جائیں اورگزرے دنوں میں ایک دوسرے کے ساتھ اورقوم کے ساتھ کی گئی نا انصافیوں کی معافی مانگیں۔پیپلز پارٹی کاکردار اس وقت مرکزی نوعیت کا ہے ،اس کو چاہئے کہ وہ تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اوریہی فرض نواز اورشہباز شریف کا بھی ہے ۔اب جبکہ یہ اعلان ہو چکا ہے کہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ ہو ں گے تون لیگ اورپیپلز پارٹی پربڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ یہ لوگ انیس سو اٹھاسی والی روش نہ اپنائیں ،اس وقت بھی مرکز میں پیپلز پارٹی تھی اورپنجاب نواز شریف کے پاس تھا ۔قوم کو اس بارسیاسی جماعتوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں ،امید ہے کہ قوم کہ اس بار مایوسی نہیں ہو گی ۔ |
| |
| dino |
| April 14, 2008, 02:57 PM |
|
 |
|