کوئٹہ: ملک بھر میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ کئی شہروں کے عوام تیس روپے جبکہ بلوچستان میں پچاس روپے فی کلو گرام آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ماہ رمضان کے بعد سے آٹا نایاب ہے جن علاقوں میں آٹا دستیاب ہے وہاں اس کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ رمضان میں حکومت پانچ سو پینتالیس روپے فی من گندم فراہم کر رہی تھی اس لئے آٹے کا بیس کلو گرام کا تھیلا تین سو روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا تھا۔ رمضان کے بعد حکومت نے گندم پر سبسڈی ختم کر دی ہے اور گندم سات سو تیس روپے فی من فراہم کی جا رہی ہے اس لئے مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا چار سو دس سے چار سو تیس روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ صوبہ سرحد میں بیس کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت چھ سو اسی روپے تک پہنچ گئی ہے۔
جبکہ پنجاب سے آنے والے فائن آٹے کا بیس کلو کا تھیلا آٹھ سو پچاس روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ پشاور سمیت صوبہ سرحد میں روٹی دس روپے کی بیچی جا رہی ہے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سستے آٹے کی فروخت یقینی بنائی جائے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی آٹے کا شدید بحران ہے۔ بیس کلو آٹے کا تھیلا آٹھ سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ یوٹیلیٹی اسٹورز اور فیئر پرائس شاپس پر آٹا ناپید ہے یا ذخیرہ اندوزوں کی نذر ہو گیا ہے۔
دکاندار من مانی قیمت پر آٹا بیچ رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں ایک کلو آٹا چالیس روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ چمن‘ قلعہ سیف اللہ‘ ژوب‘ چاغی‘ ماشکیل اور پنجگور میں عوام پچاس روپے فی کلو گرام آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کی جانب سے گندم کی اسمگلنگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ عوام کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں گندم اور آٹے کا بحران انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔