کراچی: پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر تنویر شیخ نے بینکنگ سسٹم میں سرمایہ کی قلت پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ تنویر شیخ نے ایک بیان میں کہا کہ بینکوں کی جانب سے چیکس واپس کرنا اور اوور نائٹ ریٹس میں اضافہ سنگین مالی بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جس سے سرمایہ کاروں کا بینکنگ سسٹم پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بنیادی شرح سود دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جبکہ بینکنگ اسپریڈ امریکا میں صرف ایک اعشاریہ تین فیصد‘ جاپان میں ایک اعشاریہ سات فیصد اور بھارت میں تین اعشاریہ ایک فیصد ہے۔
انہوں نے بڑھتے ہوئے بینکنگ اسپریڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بینکس اپنے اسپریڈ میں مزید دو فیصد اضافے پر غور کر رہے ہیں۔ اس اقدام سے معاشی حالات مزید خراب ہوں گے اور مشکل میں گھری انڈسٹری کے مائل اور بڑھیں گے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ وہ صنعتی قرضوں کو فروغ دے اور کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں کمی کرے تا کہ بینکنگ نظام میں کیش کی قلت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ تنویر شیخ کا کہنا تھا کہ بینکنگ اسپریڈ بڑھانے سے ڈپازٹرز کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا البتہ بینکوں کا منافع بڑھے گا اور معیشت کو نقصان پہنچے گا۔