ٹوکیو: دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت جاپا ن سات سال میں پہلی بار کساد بازاری کا شکار ہوگئی۔ مالیاتی بحران کے اثرات جاپان تک پہنچ چکے ہیں۔ بحران کے سبب برآمدات اور سرمایہ کاری کا نظام تباہ ہوکرہ گیا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سرمایہ کاری میں ایک اعشاریہ سات فیصد کمی ہوئی جبکہ برآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ کیبنٹ آفس سے جاری اعدادوشمار کے مطابق جاپانی معیشت ستمبر سے نومبر تک غیر متوقع طور پر اعشاریہ ایک فیصد مندی کا شکار ہوئی۔ جبکہ اس سے قبل سال کے وسط یہ مندی اعشاریہ نو فیصد تھی۔
جاپان کے وزیر معاشیات کاورو یوسانو کا کہنا تھا کہ سن دو ہزار ایک کے بعد پہلی بار معیشت مندی کا شکار ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال پیداواری شرح میں کمی ظاہر کرتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے مالیاتی بحران سے عالمی منڈیوں کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کے باوجود جرمنی اور اٹلی کے بعد جاپان تیسرا ملک ہے جس نے سرکاری طور پر معاشی مندی سے دو چار ہونے کا اعلان کیا ہے۔