اسلام آباد: ماہرین اقتصادیات کی جانب سے حکومت کو زرعی ٹیکس لگانے کی تجویز دے دی ہے۔ اقتصادی ماہرین نے وزیراعظم کو معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ خدمات پر بھارتی طرز کا سیلز ٹکس، زرعی انکم ٹیکس اور مہنگی گھریلو اشیا پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ پاشا سمیت دیگر اقصتادی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملک کی شرح ترقی چار سے ساڑھے چار اعشاریہ چار فیصد رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں تیس ارب روپے دفاعی اخراجات اور سبسڈیز سے کمی، پچیس ارب روپے قرضوں اور چالیس ارب روپے کے دوسرے اخراجات کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں پچہتر ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کے لئے خدمات پر بھارتی طرز کا سیلز ٹیکس، زرعی انکم ٹیکس اور مہنگی گھریلو اشیا پر ٹیکس لگانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ پراپرٹی پر صوبائی سطح سے کیپٹل گینز ٹیکس لگانے اور انکم ٹیکس کی مراعات واپس لینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی ذمہ داری اور قرضوں کی حد بندی کے دو ہزار چھ کے ایکٹ اور اسٹیٹ بینک سے وزارت خزانہ کے قرضہ جات کم کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے قرارداد منظور کرائی جائے۔
رپورٹ میں ترقیاتی اخراجات سے سو ارب روپے کی کمی تجویز کی گئی ہے۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ رواں مالی سال میں افراط زر بائیس فیصد اور آئندہ مالی سال میں سترہ فیصد رہے گا اور ملک میں غربت میں اضافے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ مالیاتی خسارہ کم کر کے میکرو استحکام کے حصول کو اولین ترجیح قرار دیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں میں چار سے پانچ ارب ڈالر کا خسارہ ختم کرنا ہو گا۔