لاہور: سوئی گیس اسٹاف نے سیکورٹی کی فراہمی تک ہڑتال کردی
لاہور: پنجاب میں سوئی گیس ملازمین نے پرتشدد واقعات کے بعد گیس چوری کے خلاف کام کرنے والے عملے کو سیکورٹی کی فراہمی تک ہڑتال کردی۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے ملازمین نے شیخوپورہ میں رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کے سی این جی اسٹیشن پر گیس چوری کی اطلاع پر ایکشن لیا۔ اس دوران مسلح افراد نے سوئی گیس کے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ محکمے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسی مسئلے پر کمپنی کے ایک افسر کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی۔
ملازمین کے مطابق کئی سی این جی اسٹیشنز اور بعض صنعتی یونٹس اور بااثر افراد اربوں روپے کی گیس کی چوری میں ملوث ہیں۔ یونین کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہر سال تقریباً چھ ارب کی گیس چوری کی جاتی ہے۔ لاہور، ساہیوال، اوکاڑہ اور دیگر دفاتر کے فیلڈ اسٹاف نے عدم تحفظ کی وجہ سے پیر سے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کرکے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حملے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہونے پر نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری اور اسٹاف کو تحفظ کی فراہمی تک تمام فیلڈ ورک بند رہے گا۔
اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے گیس چوروں کے خلاف آپریشن میں ملازمین پر تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے۔ اور اب نوبت قاتلانہ حملوں تک پہنچ چکی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ملازمین کو سیکورٹی کی فراہم کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں اور اس بارے میں جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔ عملے کی ہڑتال کی وجہ سے کسٹمر سروس سینٹرز، بلوں کی درستگی اور صارفین کی شکایات کے ازالے کا کام رک گیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری کے بعد ہی گیس چوری کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع ہوسکے گا۔