واشنگٹن: حالیہ مالیاتی بحران کے نتیجے میں اب دنیا کی دو بڑی معیشتیں امریکا اور جاپان تفریط زر کے خطرے سے دوچار ہیں۔ امریکی معاشی بحران شدید ہونے کی وجہ سے امریکا اور جاپان میں ڈیفلیشن یا تفریط زر کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے مطابق ڈیفلیشن کے سبب امریکی معیشت دو ہزار نو کے وسط تک مزید سکڑ سکتی ہے۔ ادھر امریکی لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق امریکا میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ چودہ برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جو دو ہزار نو میں سات اعشاریہ چھ فیصد ہو سکتی ہے۔
امریکا دنیا کی سب سے بڑی صارف معیشت ہے اور اس معیشت کے سکڑنے سے امریکا سے تجارت کرنے والے تمام ممالک کو مستقبل قریب میں سخت مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف دوسری بڑی عالمی معیشت جاپان کی برآمدات میں سات اعشاریہ سات فیصد کمی ہوئی ہے بیرونی طلب میں کمی سے سب سے زیادہ ٹو موبائل اور الیکٹرونکس کی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں جاپان میں مصنوعات کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں ہر جگہ سیلز کے بورڈ لگے ہیں۔
اگر ڈیفلیشن نے طول پکڑا تو اس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے ٹوکیو میں لوگ اب بھی انیس سو نوے کی دہائی کے ڈیفلیشن کو یاد کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں ڈیفلیشن آ گیا ہے ہر شخص سستے کے چکر میں ہے جس کی وجہ سے سپلائرز قیمتیں مزید کم کرنے پر مجبور ہیں اس سے معیشت میں زوال آتا ہے۔