ادبیوں کی تنظیم پاکستان رائٹرز ز گلڈ کی عمارت خستہ حالی کا شکار،رپورٹ
لاہور: ادبیوں کی فلاح و بہبود کے لئے تشکیل دیئے جانے والے ادارے، پاکستان رائٹرز گلڈ کی عالیشان عمارت ادیبوں کی باہمی چپقلش کے باعث بھوت بنگلہ بن چکی ہے۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کی بنیادانیس سو انسٹھ میں صدر ایوب خان کے مارشل لاء دور میں رکھی گئی۔ معروف ادیب اور اس وقت کے وفاقی سیکرٹری اطلاعات قدرت اللہ شہاب نے اس سلسلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہی رائٹرز گلڈ کے پہلے سیکرٹری جنرل بنے، جو گلڈ کا سب سے بڑا عہدہ ہے۔ رائٹرز گلڈ کی یہ عمارت ایک سو سترہ سال پرانی ہے۔ یہاں پہلے پرنس ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ رائٹرز گلڈ کے رکن ادیبوں کے اجلاس پہلے ہر سال ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب طویل عرصے سے ادبی سرگرمیاں مفقود ہیں۔
بری طرح نظرانداز کر دی جانے والی یہ عمارت بھوت بنگلہ بن چکی ہے۔ اس کے گراوٴنڈ فلور پر ان دنوں اس کے آفس سیکرٹری تن تنہا بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ عمارت کا بیشتر حصہ آثار قدیمہ کے کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس کے خستہ حال خالی ڈھنڈار کمروں میں جنگلی کبوتروں کا بسیرا ہے۔ آسیب زدہ نظر آنے والی عمارت سے کئی پراسرار کہانیاں وابستہ ہیں لیکن بعض ادیبوں اور شاعروں کا دعویٰ ہے کہ ایک مخصوص قبضہ گروپ رائٹرز گلڈ کی کروڑوں روپے کی اراضی ہڑپ کرنے کے درپے ہے۔
عمارت کا یہ حصہ پہلے رائٹرز گلڈ کا اصل دفتر ہوا کرتا تھا۔ آج اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ یہ حشرات الارض اور بلیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ رائٹرز گلڈ کے اس سبزہ زار پر کبھی نامور ادیبوں اور شاعروں کی محفلیں سجا کرتی تھیں۔ اب یہاں قریبی دفاتر اور دکانوں کی گاڑیاں پارک کی جاتی ہیں۔
انسانیت کا دم بھرنے والے ادیب باہمی اختلافات ختم کرکے رائٹرز گلڈ کی اس عمارت کی بحالی پر توجہ مرکوز کر لیں تو جہاں ان کی حالت زار بہتر ہو سکتی ہے وہیں ادبی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔