اداکار اسلم پرویز کی چوبیسویں برسی آج منائی جا رہی ہے
لاہور: ماضی کے معروف ہیرو اور ولن اسلم پرویز کی چوبیسویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔اسلم پرویز کا شمار پاکستان کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کو ابتدائی دور میں اپنے خون جگر سے سینچا۔ اسلم پرویز کا تعلق لاہور شہر کے متمول خاندان سے تھا۔ انہیں خاندانی پس منظر، نشست و برخواست اور عادات و اطوار کے باعث پرنس کا خطاب دیا گیا تھا۔ انہیں انیس سو پچپن میں اپنے وقت کے نامور ہدایتکار انور کمال پاشا نے فلمساز آغا جی اے گل کی فلم قاتل میں متعارف کرایا تھا۔
اسلم پرویز کی فنی زندگی کا آغاز ہیرو کے طور پر ہوا ۔ انہوں نے اپنے وقت کی تمام معروف ہیروئنوں کے مقابل ہیرو کے کردار ادا کئے۔ بطور ہیرو ان کی معروف فلموں میں پاٹے خان، پینگاں، زلفاں، کوئل، شیخ چلی، چھومنتر، نیند اور عشق پر زور نہیں شامل ہیں، بعد ازاں ہیرو شپ کے اختتام پرانہوں نے ویلنیش کردار ادا کئے اور آخر دم تک کامیاب ولن کے طور پر سلور سکرین پر موجود رہے۔مرحوم نے اپنے فلم کیرئیر میں تین سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔
وہ چودہ نومبر انیس سو چوراسی کو ہدایتکار حیدر چوہدری کی زیر تکمیل فلم جوراکی آؤٹ ڈور شوٹنگ سے واپس آ رہے تھے کہ لاہور کے قریب ان کی گاڑی ایک مسافر ویگن سے ٹکرا گئی ، انہیں جنرل ہسپتال لاہورمیں داخل کرایا گیا جہاں وہ سات روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس حادثے میں ان کے ہمسفر اداکار اقبال حسن بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اسلم پرویز نے اپنی فنی زندگی میں ہر طرح کے کردار ادا کر کے خود کو ورسٹائل اداکار ثابت کیا ، ان کے مداح اس بے مثال اداکار کے کرداروں کو ہمیشہ اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھیں گے۔