واشنگٹن: امریکا نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے استعفے کے باوجود امریکا پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مشکل دور ختم ہو گیا۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ جس پر امریکا ان کا شکر گزار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی حکومت انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے کوشش جاری رکھے گی۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے استعفے سے پاکستان کا مشکل دور ختم ہو گیا۔ نئے صدر کا انتخاب جلد کیا جائے۔ بھارت نے استعفے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان سلطان احمد نے امید ظاہر کی کہ صدر کے استعفے سے پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حکومت مستحکم ہو گی۔ فرانس نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاستدان آئین و قانون کی بالادستی کیلئے کام کریں۔ روس کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے استعفے سے پاکستان غیر مستحکم نہیں ہو گا اور آئین و قانون کی حکمرانی بحال رہے گی۔ یورپی یونین نے صدر پرویز مشرف کے استعفے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ جاپانی وزیراعظم یاسوفکودا نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے استعفے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔ بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ افتخار چوہدری نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی عوام سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔