تبلیسی: جنوبی اوسیشیا کے صدر نے حکومت برطرف کرکے ایمرجنسی نافذ کردی ہے جبکہ جارجیا سے روسی فوجوں کی واپسی آج سے شروع ہورہی ہے۔ جنوبی اوسیشیا کے صدر ایڈورڈ کو کوئٹی نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوری طور پر تین احکامات پر دستخط کئے ہیں۔ جس میں حکومت کی برطرفی،ایمرجنسی کے نفاذ اور جارجیا کی جارحیت کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کے قیام شامل ہے۔انہوں نے حکومت پر امدادی سرگرمیوں میں سست روی کا الزام بھی عائد کیا۔
اس سے پہلے روسی صدر دمتری مدودیف نے فرانس کے صدر نکولس سرکوزئی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ انہوں نے فرانسیسی صدر کو یقین دلایا کہ پیر سے روسی فوج کا جارجیا سے انخلا شروع ہوجائے گا جبکہ فرانس کے صدر نے روس کو تنازع حل نہ ہونے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے ۔
سرکوزئی نے کہا کہ امن منصوبے پر فوری عملدرآمد کیا جائے، بصورت دیگر یورپی یونین اور روس کے تعلقات متاثر ہونگے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ روس کو فوج کی واپسی کے اعلان پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔