واشنگٹن: صدر بش نے امید ظاہر کی ہے کہ پرویز مشرف کے استعفے کے باوجود پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔ جبکہ صدر پرویز کے استعفیٰ پر دیگر عالمی رہنماؤں نے ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان گورڈن جان ڈرو کے مطابق صد ربش نے پاکستان میں جمہوری عمل کے لئے صدر مشرف کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو یقین ہے کہ پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے استعفیٰ کے باوجود امریکا پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خدمات پر امریکا پرویز مشرف کا مشکور ہے۔ حکمراں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین نے کہا کہ اس سے پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوگی۔ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار بارک اوباما نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کو القاعدہ کے خلاف موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ پرویز مشرف کے استعفیٰ سے پاکستان کا مشکل دور ختم ہوگیا۔ فرانس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مشرف کے استعفے کے بعد پاکستان میں آئین کی بالادستی کی جدوجہد جاری رہنا چاہئے۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان سلطان احمد نے کہا کہ صدر کے استعفیٰ سے پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوگی۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے استعفیٰ سے آئین و قانون کی حکمرانی بحال ہوجائے گی۔ بھارت کے معاون وزیر خارجہ آنند شرما نے کہا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔
یورپی یونین نے بھی صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ جاپانی وزیر اعظم یاسو فکودا نے کہا کہ صدر مشرف کے استعفیٰ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ افتخارج چوہدری نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی عوام سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔