روس نے تبلیسی پر حملے کیلئے میزائل اوسیشیا منتقل کردیئے
ماسکو: امریکا کا کہنا ہے کہ روس نے تبلیسی پر حملے کے لئے میزائل جنوبی اوسیشیا منتقل کردیئے ہیں جبکہ روس نے امریکی الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارجیا سے اس کی فوج کا انخلا شروع ہوگیا ہے۔ روس کے صدر دیمیتری میدیدیووف نے کہا کہ جنگ بندی سمجھوتہ کے تحت جارجیا سے فوج واپس بلائی جارہی ہے لیکن کوئی اس خیال میں نہ رہے کہ روسی فوج پر حملے اور شہریوں کے قتل میں ملوث افراد کو سزائے دیئے بغیر چھوڑ دیا جائے گا۔
روسی فوج صرف جارجیا سے نکل رہی ہے جنوبی اوسیشیا اور ابخازیا میں امن فوج موجود رہے گی۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ روس امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ بے حد خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نیٹو روس کو نہ تو جارجیا میں کامیاب ہونے دے گا اور نہ یورپ کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت دے گا۔ ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان گورڈن جانڈرو نے روس پر الزام لگایا کہ اعلان کے باوجود روسی فوج جارجیا کی سرزمین پر موجود ہے اور اس کی واپسی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ جارجیا کا بھی یہی کہنا ہے کہ روسی فوجوں کی ابھی تک واپسی شروع نہیں ہوئی۔