برسلز: امریکی دباؤ پر نیٹو نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک روس جارجیا سے فوج واپس نہیں بلاتا اس وقت تک اس سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی ۔ برسلز میں چھبیس رکنی نیٹو تنظیم کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ روس کے ساتھ معمول کے تعلقات جاری نہیں رہ سکتے ۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل ڈی ہوپ شیفر نے برسلز میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ جب تک روسی فوج جارجیا کے بڑے حصے پر قابض ہے نیٹو روس کونسل کی سرگرمیاں معطل رہیں گی ۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ امریکا نیٹو کی جانب سے روس کو جاری کئے جانے والے واضح پیغام کا خیر مقدم کرتا ہے ۔
دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کے ترجمان گورڈن جان ڈرو نے روس کو نیٹو کی وارننگ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ روس جارجیا سے فوری طور پر اپنی فوج واپس بلائے ۔ ادھر برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ نیٹو ممالک روس کے خلاف متحد ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ جارجیا میں روس کی حملہ آور فوج کی تعداد ایک لاکھ ہے اور اٹھارہ ہزار جارجین فوج اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔