کا بل: افغانستان پر امریکی حملے کو سات سال مکمل ہو گئے۔ امریکا نے اس جنگ میں کیا کھویا کیا پایا۔ سات اکتوبر دو ہزار ایک امریکا نے نائن الیون کے واقعے کو جواز بنا کر افغانستان پر حملہ کر دیا۔ امریکا نے نائن الیون کا ذمہ دار القاعدہ کو ٹھہرا کر طالبان حکومت سے القاعدہ رہنماؤں کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ طالبان کے انکار پر امریکا نے اتحادی ممالک کی مدد سے افغانستان پر حملہ کیا اور اپنی فوج افغان سرزمین پر اتار دی۔ ماہرین کے مطابق امریکا کا مقصد محظ طالبان کے اقتدار کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ وہ وسائل سے مالا مال خطے پر اپنا تسلط چاہتا تھا۔ امریکا سات سال تک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کرنے کے باوجود مقاصد حاصل نہیں کر سکا اور آخر کار مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب کے تعاون سے افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ امریکا کے صدارتی انتخابات میں افغانستان اہم ترین موضوع بن کر ابھرا ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان میں مزید جارحانہ رویہ اپنانے کی حامی ہیں۔ جس سے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں سات سال سے آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ منظم اور موثر مذاکرات کی عدم موجودگی میں افغانستان میں صورتحال مزید گمبھیر ہوئی ہے افغانستان میں واضح پالیسی اپنا کر ہی خطے میں حقیقی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔