بھارت: ایک ہی خاندان کے چالیس افراد جڑی انگلیوں کے مرض کا شکار
کیرالہ: بھارت کے ضلع کیرالہ میں ایک خاندان کے چالیس افراد کی انگلیاں جڑی ہیں۔ مقامی پنڈت اسے قدرت کی دین جبکہ کچھ لوگ اسے بددعا تصور کرتے ہیں۔ بھارت کے ضلع کیرالہ کے مانا چری گاؤں میں ایک غیر معمولی خاندان رہائش پذیرہے۔ جس کے چالیس افراد کے ہاتھوں کی دو درمیانی اگلیاں آپس میں جڑی ہیں یہ افراد سنڈیک ٹائلی نامی جنیاتی مرض کا شکار ہیں۔ جس میں مبتلا افراد کی انگلیاں ٹشو کے ذریعے جڑ جاتی ہیں یہ مرض قابل علاج ہے لیکن اس کے باوجود لوگ نہ ہی اس کا آپریشن کراتے اور نہ ہی اسے مصیبت سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہمیں سرجری کا مشورہ دیتے ہیں لیکن اس کی ضرورت نہیں ہمیں جڑی انگلیوں سے مشکلات پیش نہیں آتیں۔ ہاں یہ مسئلہ ہے کہ ہم انگوٹھیاں نہیں پہن سکتے۔ خاندان کے افراد کا ماننا ہے کہ انہیں یہ مرض گھر میں موجود درخت کاٹنے کے بعد ہوا۔ جس کے کٹنے سے سانپوں کے سر بھی کٹ گئے تھے اور خاندان کے افراد اس مرض کے ساتھ پیدا ہونے لگے۔ متاثرہ افراد کے ہاتھوں کی بناوٹ سانپ کے سر سے مشابہ ہے۔ کچھ لوگ اس مرض کو بددعا قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ اس قدرت کی دین تصور کرتے ہیں۔ اہل خانہ کے احتجاج کے باوجود گھر کے نئے مالک مکان نے درخت کاٹ دیا جس سے سانپوں کے سر بھی کٹ گئے یہ انہی کی بددعا ہے۔ جڑی انگلیاں بھگوان کی دین ہے یہ کئی نسلوں سے ایسا ہے یہ واقعی بھگوان کی دین ہے۔ خاندان کے افراد آپریشن سے گریز کرتے ہیں کیونکہ منفرد انگلیوں کے باعث وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود اپنے خاندان کے افراد کو پہچان سکتے ہیں۔