افغانستان سے غیر ملکی فوج نہ گئی تو فرانس پر حملہ کردیں گے،طالبان
کابل: طالبان نے مذاکرات کے لئے افغان صدر حامد کرزئی کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر فرانس نے فوج واپس نہ بلائی تو پیرس میں حملے کئے جائیں گے۔ طالبان کے نائب امیر اور ملا عمر کے بھائی نے برطانوی خبررساں ادارے کو ٹیلی فونک انٹرویو میں بتایا کہ جب تک غیر ملکی افواج افغانستان میں موجود ہیں طالبان کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکیوں کی افغانستان میں موجودگی کی وجہ سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ افغانستان میں مسائل کی اصل وجہ غیر ملکیوں کی موجودگی ہے۔
ملا عمر کے بھائی نے کہا کہ طالبان افغانستان میں محفوظ ہیں انہیں حفاظت کے لئے حامد کرزئی کی پیش کش کی ضرورت نہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں قیام امن کے لئے گزشتہ روز طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔ دوسری جانب طالبان کمانڈر ملا فاروق نے دھمکی دی ہے کہ اگر فرانسیسی فوج افغانستان سے واپس نہ بلائی گئی تو پیرس میں حملے کئے جائیں گے۔ العربیہ ٹی وی پر نشر ہونے والے ویڈیو میں طالبان کمانڈر نے اگست میں دس فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
فرنچ فوجیوں کی ہلاکت فرانس کے لئے پیغام ہے کہ وہ اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے فوج واپس بلا لے۔ بصورت دیگر وہ پیرس میں ہمارا ردعمل دیکھیں گے۔ دوسری جانب قندھار میں خود کش حملے اور دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔ بم دھماکے میں چار جرمن فوجی زخمی بھی ہوگئے۔