غزہ: غزہ کی ناکہ بندی سے غذا اور توانائی کا بحران شدید ہو گیا۔ فلسطینیوں کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم نئی بات نہیں۔ کبھی فلسطینیوں کا خون بہایا جاتا ہے تو کبھی اسرائیل فلسطینیوں کے معاشی قتل عام کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔ اسرائیل نے راکٹ حملوں کو جواز بنا کر کئی ماہ سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ جس سے علاقے میں غذا اور توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
ایک تنگ حال فلسطینی کو بیکری چلانے کیلئے آئل اور گیس نہ ملی تو اس نے گاڑیوں میں استعمال شدہ آئل کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہوئے بیکری چلانا شروع کر دیا۔ فلسطینی خواتین بیکری کے تندور میں روٹیاں پکانے آتی ہیں۔ بیکری کا مالک اور یہاں آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مظالم کے سبب فلسطینی مہنگا ایندھن خریدنے اور کاروبار زندگی چلانے کے قابل بھی نہیں رہے۔
اسرائیل کے محاصرے نے ہماری مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ لوگ ہماری بیکری پر آتے ہیں لیکن اب خراب کوالٹی کا آئل بھی دستیاب نہیں جسے بیکری میں استعمال کیا جا سکے۔ کھانے پکانے کیلئے ہمارے پاس ایندھن دستیاب نہیں ہے۔ ہم اس وقت یہاں آتے ہیں جب کھانا پکانے کیلئے نہ ہی بجلی ہوتی ہے اور نہ گیس۔ استعمال شدہ آئل مہنگے دام فروخت ہونے سے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔