ڈاکٹر عافیہ کیس: تحقیقات سترہ دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم
نیویارک: نیویارک کی مقامی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کی تحقیقات سترہ دسمبر تک مکمل کرنیکا حکم دے دیا۔امریکا میں زیر حراست پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ذہنی حالت کے بارے میں عدالتی بحث جاری ہے۔ وکیل استغاثہ ڈیوڈ راسکن نے ٹیکساس کی کارلائل جیل میں کئے گئے ڈاکٹر عافیہ کے نفسیاتی معائنے کے نتائج پر سوالات اٹھاتے ہوئے عدالت سے معائنے کے نتائج اپنے ڈاکٹروں کو دکھانے کی اجازت مانگی۔ نیویارک کی ضلعی عدالت کے حکم پر ڈاکٹر عافیہ کا نفسیاتی معائنہ کیا گیا تھا۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ اپنے اوپر چلائے جانے والے مقدمے کو سمجھنے اور اپنے دفاع سے قاصر ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی وکیل الزبتھ فینک نے عدالت سے وقت مانگا ہے تاکہ وہ ڈاکٹر عافیہ کے امریکا میں قیام اور ماضی میں ان کو لاحق کسی ممکنہ ذہنی و نفسیاتی بیماری کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں۔
نیویارک کی مقامی عدالت کے جج رچرڈ برمن نے بدھ کو بحث کے دوران دریافت کیا کہ سن دو ہزار تین سے دو ہزار آٹھ تک ڈاکٹر عافیہ اور ان کے بچے کہاں رہے اور ان کے دو بچے اس وقت کہاں ہیں۔ سرکاری وکیل ڈیوڈ راسکن نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے چھان بین کی ہے اور کئی امریکی ایجنسیوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔ لیکن انہیں ڈاکٹر عافیہ کو حراست میں رکھنے اور ان پر تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انہو ں نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر عافیہ اپنے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد روپوش ہوگئی تھیں۔