عراق: مکمل انخلاء میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں، مائیکل مولن
واشنگٹن: امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن کا کہنا ہے کہ عراق سے مکمل انخلاء میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں ۔دوسری جانب بغداد میں اجتماعی قبر سے ڈیڑھ سو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پینٹاگون میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایڈمرل مائیکل مولن کا کہنا تھا کہ عراق سے فوج کی مکمل واپسی کا طریقہ کار بہت سے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کرنا پڑے گا۔
مائیکل مولن کا کہنا تھا کہ براک اوباما کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد وہ ان کی ہدایات پر عمل کریں گے اور وہ نومنتخب صدر کو عراق اور دیگر معاملات پر بہترین مشورہ دینے کے لئے تیار ہیں۔مائیکل مولن نے مزید کہا کہ وہ سیکورٹی معاہدے کی شرائط سے مطمئن ہیں جس کے تحت امریکی فوج کا انخلاء دو ہزار گیارہ کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔ مائیکل مولن نے امید ظاہر کی کہ امریکی افواج کے مکمل انخلاء تک عراقی سیکورٹی فورسز اپنے دفاع کے قابل ہوجائیں گی۔
واضح رہے کہ عراق میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی موجود ہیں اور نومنتخب صدر اوباما سولہ ماہ کے دوران عراق سے امریکی فوج کی مکمل واپسی چاہتے ہیں۔ ادھر نجف میں سینکڑوں افراد نے عراق امریکا سیکورٹی معاہدے کے حق میں مظاہرہ کیا ۔
مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر معاہدے کے حق میں نعرے درج تھے۔ عراق امریکا سیکورٹی معاہدے پر عراقی پارلیمنٹ میں ووٹنگ چوبیس نومبر کو ہوگی اور امکان ہے کہ یہ بھاری اکثریت سے منظور کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب عراقی دارالحکومت بغداد کے جنوب سے اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے جس میں ایک سو پچاس افراد مدفون ہیں۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ افراد صدام حسین کے کردوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں مارے گئے تھے ۔ان افراد کی باقیات کو اربیل منتقل کردیا گیا۔