|
ہندو لڑکی کی شادی مسلمان سے نہیں ہونی چاہئے، نتین
نئی دہلی: بھارت کے وزیر مملکت نتین رویت نے مسلمان لڑکوں اور ہندو لڑکیوں کی قانونی شادیوں کی مخالفت کر کے ہندو سیکیولرازم کی حقیقت کھول دی۔ وزیر مملکت نتین رویت نے مہارشٹرا اسمبلی سے خطاب میں الزام لگایا کہ مسلمان لڑکے سازش کے تحت ہندو لڑکیوں سے محبت کی شادی کر رہے ہیں۔ ایسے واقعات کی تحقیق کی جائے گی۔ دو اراکین اسمبلی نے اس بحث میں حصہ لیا اور انکشاف کیا کہ مسلمان لڑکوں اور ہندو لڑکیوں میں شادی کا مقصد مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہے جبکہ نتین روت کی تجویز کو بیشتر کابینہ اراکین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نیتن روت کی متعصبانہ سوچ سے ہندو انتہا پسندی اور مسلمانوں سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے اور بھارتی وزیر کا یہ بیان اس حقیقت کا برملا اظہار ہے۔ کانگریس کے رہنما عارف نسیم خان نے کہا ہے کہ بھارتی آئین میں کسی کمیونٹی کو دوسری کمیونٹی میں شادی کرنے سے روکنے کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص زبردستی شادی کرے تو اسے ضرور سزا ملنی چائیے۔ |