لاہور : لاہور میں وکلاء کا سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر شدید تشدد ،سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔سابق وفاقی وزیر شیر افگن نیازی الیکشن پٹیشن دائر کرنے کے لئے ٹرنر روڈ پر اپنے وکیل کے پاس گئے،جہاں دفتر کے باہر موجود وکلاء نے انہیں گھیرے میں لے لیا ، جس کے بعد سابق وفاقی وزیر نے اپنے وکیل کے دفتر میں پناہ لے لی۔اس دوران وکلاء کی بڑی تعداد وہاں جمع ہوگئی اور ان کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار کے صدور کی جانب سے نوجوان وکلاء سے پر امن رہنے کی درخواست کی گئی لیکن مشتعل وکلاء نے انکار کر دیا۔
شیر افگن نیازی پانچ گھنٹے تک اپنے وکیل کے دفتر میں محصور رہے۔ اس دوران سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن وہاں پہنچے ، اور انہوں نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک کامیابی کے قریب ہے ،وکلاء پڑھا لکھا طبقہ ہے اور تشدد انہیں زیب نہیں دیتا ، بعد میں اعتزاز احسن وکلاء کی دیگر قیادت کے ساتھ سابق وفاقی وزیر کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لئے ایڈووکیٹ نور محمد اعوان کے دفتر میں گئے ،جس وقت شیر افگن نیازی کو وہاں سے نکالا گیا تو وکلاء ایک مرتبہ پھرمشتعل ہوگئے اور انہوں نے ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر جوتوں اور ڈنڈوں کی بارش کر دی۔
وکلاء نے انہیں لینے کے لئے آنے والی ایمبو لینس کے ٹائروں کی ہوا نکال کر ڈرائیورکو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور چابیاں چھین لیں۔اس موقع پر پولیس اہلکار ایمبولینس کو دھکیل کر لے جانے لگے تو وکلاء نے ایمبولینس کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا اور اس پر پتھراوٴ کیا، جس سے ایمبولینس پر بیٹھے سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن بھی معمولی زخمی ہوگئے۔بار بار درخواست کرنے کے بعد وکلاء منتشر نہیں ہوئے تو وہ ایدھی کی ایمبولینس سے نیچے اتر آئے اور سپریم کورٹ بار کی صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔اس دوران سابق وفاقی وزیر کو ریسکیو کی گاڑی میں ڈال کر ماڈل ٹاون تھانے منتقل کر دیا گیا،جہاں گورنر پنجاب پہنچے اور انہیں اپنے ساتھ گورنر ہاوٴس لے گئے ۔