جنو بی وزیرستان:عسکریت پسندوں سے مذاکرات میں پیشرفت
وانا: جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں سے امن مذاکرات میں بتیس قبائلیوں کی رہائی پر اتفاق ہوگیا جبکہ سوات میں مولانا فضل اللہ کے حامیوں سے امن معاہدے کے تمام نکات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔جنوبی وزیرستان میں جاری مذاکرات کے پہلے مرحلے میں قبائلی قیدیوں کے تبادلہ پر اتفاق ہوگیا ہے۔حکومت نے گرفتار قبائلی شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک منتقل کردیا،یہ لوگ ملک کے مختلف علاقوں سے مشکوک حالت میں گرفتار کیے گئے تھے۔حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید پیش رفت کاامکان ہے۔
کل صبح دس بجے بتیس قبائلیوں کی رہائی متوقع ہے،حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان جنوبی وزیرستان سے سیکورٹی فورسز کی واپسی یا پاک افغان بارڈر منتقلی پر مذاکرات جاری ہیں۔دوسری جانب سوات میں امن وامان کے لیے سرحدحکومت اور مولانا فضل اللہ کے حامیوں کے درمیان بات چیت کا تیسرا دور ختم ہوگیا۔فریقین میں امن معاہدے کے تمام نکات پراتفاق نہیں ہوسکا جبکہ اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خان خٹک نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ فائر بندی میں توسیع پر اتفاق ہوگیا ہے۔
مذاکرات کا اگلا دور چند روز بعد دوبارہ ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ملاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کے لیے فریقین پر مشتمل دس رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جبکہ سوات سے فوج کی واپسی سمیت دیگر ایشوز پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اس موقع پر مقامی طالبان ترجمان مسلم خان نے میڈیا کو بتایا کہ سات مطالبات پیش کیے ہیں لیکن طالبان اسلحہ جمع نہیں کرائیں گے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا سلسہ جاری رہے گا۔ادھر پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے فوج کی واپسی کا فیصلہ حکومت کرے گی۔جس کا انحصار حکومت اورقبائل کے درمیان مذاکرات کے نتائج پر ہے۔