اسلام آباد: اے پی ڈی ایم نے صدر پرویز مشرف کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی التواء میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اے پی ڈی ایم کی دو روزہ کانفرنس میں نئی احتجاجی تحریک کی تاریخوں کا اعلان نہیں ہو سکا ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ مشاورت کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں احتجاجی تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔ اے پی ڈی ایم کے رہنما محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد میں دو روزہ کانفرنس کے بعد اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے تین نومبر کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انیس سو تہتر کے آئین کو بالادست قرار دیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ نئی حکومت اعلان بھوربن سے پیچھے ہٹ چکی ہے اور یہ پرویز مشرف کے ساتھ گٹھ جوڑ کر چکی ہے اوریسے راستوں کی تلاش میں ہے جس سے برطرف ججوں کی بحالی کے معاملے کو محدود اور کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف فوری طور پر صدارت چھوڑ دیں اور اعلیٰ عدالتوں کو دو نومبر کی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔
اعلامئے میں مشرف کے دور میں لاپتہ کئے جانے والے افراد کو بازیاب کرانے اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں وکلاء سے مشاورت کے بعد سات جولائی کو نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ عوام سے ہمارا وعدہ ہے کہ اے پی ڈی ایم عدلیہ کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔