اسلام آباد: حکمران اتحاد کے سربراہ اجلاس میں ججوں کی بحالی کا ٹائم فریم طے نہیں ہو سکا۔ جے یو آئی اور اے این پی نے مسئلے کے حل کے لئے تین دن کی مہلت مانگ لی۔ زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس تین گھنٹے سے زائد وقت جاری رہا تاہم ججز کی بحالی کا معاملہ طے نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پہلی بار اجلاس میں شریک ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کا موقف تھا کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں میں چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام ججوں کو بحال کیا جائے بصورت دیگر اتحاد کا مزید چلنا مشکل ہو گا۔
مذاکرات میں ناکامی کے بعد نواز شریف واپس لاہور چلے گئے ہیں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آصف علی زرداری نے ججز کی بحالی پر مشترکہ موقف اپنانے کیلئے جے یو آئی اور اے این پی کو ذمہ داری سونپی ہے اور ہماری درخواست پر مشاورت کیلئے بہتر گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ججز کی بحالی پر بڑی جماعتوں میں اختلاف ختم کرنے کیلئے کردار ادا کریں گے اور دونوں جماعتوں کی قیادت کے ساتھ مشاورت سے مسئلے کا متفقہ حال نکال لیا جائے گا۔
اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ بڑی جماعتوں نے ججز کی بحالی کا معاہدہ کر رکھا ہے لیکن ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فاٹا سے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کا کہنا تھا کہ وہ بدھ کو مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی سے مشاورت کریں گے جس کے بعد بڑی جماعتوں کی قیادت سے صلاح مشورہ کر کے معاملہ حل کیا جائے گا۔