اسلام آباد: سابق صدر کے مواخذے کے لئے تیار کردہ چارج شیٹ میں پرویز مشرف کے خلاف آئین کے نو آرٹیکلز کی خلاف ورزیوں سمیت مالی بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ جبکہ جنرل پرویز مشرف ریٹائرڈ نے کل اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکتا۔ چارج شیٹ کے مطابق مشرف پر ججوں کو معزول، فیڈریشن کو کمزور، بلوچستان آپریشن شروع کرنے، ڈالروں کے عوض سینکڑوں پاکستانیوں کی دوسرے ممالک کو فروخت، صوبائی حقوق چھیننے اور صوبوں کو ہائیڈل منافع نہ دینے کے الزامات شامل ہیں۔
پرویز مشرف پر دو ہزار دو میں ریفرنڈم کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرانے اور پارلیمنٹ سے خطاب نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ مشرف پر این ایف سی ایوارڈ کا از خود اعلان کرنے، پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے مشترکہ مفاد کونسل کا اجلاس بلانے کی بجائے دو کمیٹیاں بنانے کا بھی الزام ہے۔ مشرف پر اپنی کتاب میں پاکستان کی طرف سے دوسرے ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اعتراف سے سرکاری راز افشا کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔
سابق صدر مسرف کی بارہ مئی دو ہزار سات کی تقریر کو بھی ایک الزام کے طور پر شامل کیا گیا۔ الزامات میں پرویز مشرف کے اس بیان کو بھی شامل کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بلوچوں کو علم نہیں ہو سکے گا کہ انہیں کس طرح سے ہٹ کیا جائے گا۔ مشرف پر انتخابات سے پہلے قومی خزانے سے چار سو ارب روپے غائب ہونے پر کوئی کارروائی نہ کرنے کا بھی الزام ہے۔ چارج شیٹ میں کہا گیا کہ پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کو تعاون نہ کرنے پر سیکورٹی کی دھمکی دی تھی۔