اسلام آباد: پرویز مشرف کے استعفے پر وکلاء کا ملک بھر میں یوم نجات۔ ججز کی بحالی اور پرویز مشرف کے خلاف مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ کراچی میں یوم نجات کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ اور کراچی بار میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ وکلاء نے سٹی کورٹ سے کراچی پریس کلب تک ریلی نکالی۔ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید اے رضوی نے خطاب کرتے ہوئے وکلاء کو آمریت کے خاتمے پر مبارکباد دی اور ججز کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ نوابشاہ میں ضلعی بار ایسوسی ایشن نے سیشن کورٹ سے پریس کلب تک ریلی نکالی۔ ضلعی بار کے صدر علی محمد ڈاہر کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک ججز کی بحالی تک جاری رہے گی۔
پرویز مشرف کے استعفے پر لاہور میں جشن فتح تو منایا گیا لیکن وکلاء میں جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی اور مستعفی ہونے کی خبروں سے تشویش پیدا ہو گئی۔ لاہور ڈسٹرکٹ بار میں جسٹس وجیہہ الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے جسٹس افتخار چوہدری کو صدارتی الیکشن میں نااہل قرار دینے کے ڈر سے فارغ کرنے کی کوشش کی ان کا کہنا تھا کہ وکلاء تحریک کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو، آصف زرداری اور نواز شریف سمیت دیگر جلا وطن رہنما پاکستان آنے میں کامیاب ہوئے۔
بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلاء تنظیموں نے بھی پرویز مشرف کے استعفے پر یوم نجات منایا۔ کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے علی احمد کرد اور دیگر وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ وکلاء کو چیلنج کرنے والوں کو کہیں پناہ نہیں مل رہی۔ اب ججز کو بحال ہو جانا چاہئے وکلاء نے بلوچستان میں آپریشن بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پشاور ہائی کورٹ بار میں یوم نجات کے موقع پر قرآن خوانی اورکھانا تقسیم کیا گیا۔ ہائی کورٹ بار کے صدر عبداللطیف آفریدی نے کہا کہ وکلاء نے آمریت سے نجات حاصل کرنے کے لئے قربانیاں دی تھیں ان کا کہنا تھا کہ ججز بحال نہ کئے گئے تو موجودہ حکومت کی حالت پرویز مشرف سے بھی بدتر ہو گی۔
آزاد کشمیر میں بھی وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے یوم تشکر منایا۔ مظفر آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں، آزاد جموں کشمیر بار کونسل، سپریم کورٹ اور سینٹرل بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام وکلاء نے ریلی نکالی۔ آزاد کشمیر بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری ابراہیم ضیاء ایڈووکیٹ نے پرویز مشرف کے خلاف ملک کا آئین توڑنے اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرانے پر سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔