اسلا م آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے مستعفی صدر مشرف کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور سابق صدر کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لئے دائر درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی۔ تحفظ حقوق انسانی کی طرف سے دائر کی گئی پٹیشن میں پرویز مشرف سمیت سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور اس وقت کی اسلام آباد انتظامیہ کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی استدعا کی گئی ہے۔ پٹیشن میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل کیا جائے تا کہ وہ ملک سے راہ فرار اختیار نہ کر سکیں۔
ہائی کورٹ میں درخواست دائرکرنے کے موقع پر مولانا عبدالرشید غازی مرحوم کی اہلیہ حمیرا رشید غازی سمیت جامعہ حفصہ کی درجنوں طالبات نے ہائی کورٹ کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ مولانا عبدالرشید غازی کی ہمشیرہ نے لال مسجد آپریشن کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کرنے اور حقائق کو منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے مظاہرہ کرنے والی طالبات کو ہائی کورٹ کے احاطے میں داخل ہونے سے بھی روک دیا۔ بعد ازاں رجسٹرار ہائی کورٹ نے درخواست پر انتظامی نوعیت کے اعتراضات لگا کر درخواست واپس کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ اعتراضات دور کر دیئے گئے ہیں کل یہ درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔