مردان: باجوڑ آپریشن کے باعث مردان کی طرف نقل مکانی کرنے والے متاثرین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ باجوڑ آپریشن کے باعث مردان کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ مردان میں اسکولوں اور زیر تعمیر عمارتوں میں پناہ لینے والے باجوڑ متاثرین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ حاصل کرنے والے متاثرین کو محکمہ تعلیم کی طرف سے اسکول خالی کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ متاثرین عارضی پناہ گاہ چھن جانے کے خوف سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے پندرہ سو سے زائد خاندانوں میں زیادہ تعداد کم سن، شیر خوار بچوں، بارہ سے پندرہ سال تک کے لڑکے، لڑکیوں اور ضعیف مرد و خواتین کی ہے۔ صوبائی حکومت نے متاثرین باجوڑ کے لئے ریلیف کیمپ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپس میں متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ تاہم متاثرین نے خیموں میں سہولیات کی فراہمی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ سہولیات تو درکنار ریلیف کیمپس میں پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔
بعض متاثرین نے مردان میں اپنے رشتہ داروں کے گھر پناہ حاصل کی ہے پندرہ سو سے زائد خاندانوں کے مکمل اعدادو شمار محفوظ کرلئے گئے ہیں۔ جبکہ نئے آنے والے متاثرین کے اعدادوشمار اکٹھا کرنے کے لئے یوسی ناظمین، خفیہ ایجنسیوں اور سماجی تنظیموں کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔