اسلا م آباد: قومی اسمبلی میں ارکا ن کی اکثریت نے پر و یز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دینے کا مطالبہ کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے صدرپر ویز مشر ف کا استعفیٰ مو صو ل ہو نے کے بعد اسے باضابطہ طو رپر منظو ر کر لیا ہے ۔ اسپیکر کے مطا بق صدر پر ویز مشر ف نے آئین کے آرٹیکل چوالیس کی دفعہ تین کے تحت اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ۔
فہمیدہ مرزا مطا بق یہ ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ انیس سو تہتر کے آئین کے تحت پہلی بار کسی سر بر اہ مملکت نے اسپیکر قومی اسمبلی کو استعفیٰ پیش کیا ہے جس سے ایو ان کے عز ت و وقار میں اضا فہ ہو ا۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلا س میں معمول کی کا رروائی روک کر صدر کے استعفیٰ پر بحث کی گئی ۔ مسلم لیگ ن کے رکن سردار مہتاب عباسی نے اظہار خیال کر تے ہو ئے کہا کہ قوم پر ویز مشرف کا احتساب چاہتی ہے تاکہ ملک میں آئند ہ ما رشل لا ء کا راستہ بند ہوسکے ۔ انہوں نے آرٹیکل چھ کے تحت پر ویز مشر ف پر مقدمہ چلا نے کا مطا لبہ کیا ۔غلا م احمد بلور نے کہا کہ اداروں کو مضبوط بنا کر ہی طالع آزما ؤں کو روکا جا سکتا ہے ۔ کپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ پا کستان کو بچانے کیلئے جنر ل ریٹا ئرڈ کو سزا دی جا ئے ۔ تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ پر ویز مشر ف سولہ کروڑ عوام کے مجر م ہیں انہیں ملک چھوڑنے نہ دیا جا ئے ۔ مسلم لیگ ق کی رکن شہنا ز شیخ کا کہنا تھا کہ پر ویز مشرف کو ان کے کارناموں پر خراج تحسین پیش کر تے ہیں ۔ امیر مقام نے کہا کہ صدر پر ویز مشر ف نے استعفیٰ دے کر خو دکو جمہوری ثابت کر دیا ہے ۔ ایو ان کا اجلا س آج منگل کی صبح دس بجے پھر ہو گا ۔