آٹھ اکتوبرکو ملکی تاریخ میں پارلیمنٹ کا تیسراان کیمرہ سیشن ہوگا
اسلام آباد: آٹھ اکتوبر کو ہونے والا پارلیمنٹ کا سیشن ملکی تاریخ کا تیسرا ان کیمرا سیشن ہے۔ پارلیمنٹ کا ان کیمرا سیشن ایسے اجلاس کو کہا جاتا ہے جس میں زیر بحث آنے والے معاملات خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ ہماری پارلیمنٹ کا پہلا ان کیمر ا سیشن اکیس ستمبر انیس سو چوہتر میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا تھا جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔
دوسرا ان کیمرا سیشن انیس سو ستاسی میں محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں ہوا ،جس میں اراکین اسمبلی کو افغان جنگ کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔ اب پینتیس برس بعد آٹھ اکتوبر دو ہزار آٹھ کو پارلیمنٹ کا تیسرا ان کیمرا اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔اس اجلاس کے دوران ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ فاٹا میں جاری آپریشنز اور قبائلی علاقوں میں امریکی فضائی حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں عوامی نمائندوں کو اعتما د میں لیا جائے گا۔
یہ اجلاس ایک سے زائد دن تک بھی جاری رہ سکتا ہے یا اس کے مختلف سیشن بھی ہوسکتے ہیں۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کریں گی۔ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں شرکت کرنے والے تمام ارکان اجلاس میں زیر بحث لائے جانے والے معاملات کو ظاہر نہ کرنے کے پابند ہوتے ہیں،خلاف ورزی پر ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ آٹھ اکتوبر کو ہونے والا پارلیمنٹ کا ان کیمرہ سیشن انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جارہا ہے کیونکہ اس میں ملک کی آئندہ پالیسیوں کا تعین ہوگا۔