ٹیکساس : پاکستانی سینیٹرز نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فوری رہا کیا جائے۔ پاکستانی سینیٹرز کے وفد نے مشاہد حسین کی زیر قیادت ٹیکساس کی فیڈرل بیورو جیل میں ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی ،وفد میں شامل سینیٹر طلحہ محمود کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے زخموں کی سرجری نہیں کی گئی ہے، وہ تشدد کے باعث نقاہت کا شکار ہیں اور ان کی گفتگو بھی بے ربط تھی۔
سینیٹرز سے ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی شہری ہیں، انہیں فوری واپس بھیجا جائے۔ ٹیکساس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے بعد پاکستانی سینیٹرز کے وفد نے امریکا سے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بے قصور ہیں، اس لئے انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔
آج نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹرز مشاہد حسین نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا، پاکستانی قوم جلد ہی ان کی رہائی کی خوشخبری سنے گی۔ مشاہد حسین نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکی پالیسیوں پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے اور اگر تشخص بہتر بنانا ہے تو امریکا کو انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے مثبت فیصلے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو امریکا سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ سینیٹرز نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ گوانتاناموبے میں قید پانچ پاکستانیوں کو بھی ہمدردی کی بنیادی پر رہا کیا جائے۔