گورنر پنجاب اور وزیر اعلی کے درمیان اختیارات کی جنگ،رپورٹ
لاہور: گورنر پنجاب اور وزیر اعلی کے درمیان اختیارات کی جنگ اور حکومتی امور اختلافات صوبے میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے گورنر پنجاب اور وزیر اعلی کے درمیان جاری کشمکش کے باعث نہ صرف مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان افہام و تفہیم کی فضا متاثر ہوئی ہے بلکہ صوبائی کابینہ میں توسیع بھی تاخیر کا شکار ہے۔
گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلی کو دو خطوط سولہ نومبر کو اس وقت ارسال کئے گئے جب وہ چین کے اہم دورے پر روانہ ہونے والے تھے۔ گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے غیر آئینی اقدامات کا اسی طرح نوٹس لیتے رہیں گے جبکہ مسلم لیگی راہنماوٴں کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب حکومت کے خلاف سازشوں میں مصرف ہیں۔
پیپلز پارٹی کے راہنماوٴں کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب وفاق کے نمائندے ہیں اور وہ اپنا آئینی حق ادا کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سیاسی محاذ آرائی عوامی مفاد میں نہیں۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین کا کہنا ہے کہ حزب اقتدار کی دونوں جماعتوں میں اختلافات سے مرکز میں بھی سیاسی محاذ آرائی بڑھ سکتی ہے جو جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں مخلوط حکومت کے درمیان وزارتوں کی تقسیم اور اختیارات اختلافات کی بڑی وجہ ہے۔ مرکز کی طرح پنجاب میں بھی ماضی کی حریف جماعتوں کے درمیانی یہ اتحاد لمبے عرصہ تک قائم رہنا مشکل نظر آتا ہے۔