قبائلی بچوں پر امریکی بمباری کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش،رپورٹ
اسلام آباد: آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کا عالمی دن منایا جارہا ہے بچوں کے حقوق کے تحفظ کی دعویدار مغربی این جی اوز نے قبائلی علاقوں میں امریکی بمباری سے ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں کو سیاسی مسئلہ قرار دے دیا۔ اقوا م متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سترہ کروڑ میں سے سات کروڑ سے زیادہ آبادی بچوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں بچوں کو جسمانی تشدد، جنسی زیادتی، جبری مشقت اور معاشی استحصال سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
مغربی تنظیمیں بچوں کو پیش آنے والے ان مسائل کا ذکر تو اکثر کرتی ہیں لیکن قبائلی علاقوں میں مدارس میں قرآن پاک پڑھتے یا گھروں میں والدین سمیت امریکی بمباری سے بچوں کی ہلاکتوں پر ان تنظیموں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ این جی اوز کا یہ دوہرا معیار اپنی جگہ لیکن بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کے حوالے سے ان کے مطالبات کافی حد تک درست اور جائز ہیں ۔پاکستان نے بچوں کے حقوق کے لئے انیس سو اکیانوے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق کی لیکن بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق دو ہزار چھ میں تیار کردہ بل کا مسودہ منظوری کے لئے ابھی تک پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ جبکہ پہلے سے موجود قوانین میں بھی خامیاں ہیں۔
سیو دی چلڈرن یوکے اور پلان پاکستان نے چائلڈ پروٹیکشن بل کی منظوری کے لئے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے نام سے مشترکہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد بچوں کی عزت اور توقیر کو یقینی بنانا اور ان کے لئے یکساں مواقع پیدا کرنا ہے۔ بچوں کے حقوق کا تحفظ حکومت یا معاشرے کی ذمہ داری تو ہے ہی لیکن اس کا براہ راست تعلق، صحت اور تعلیم کی سہولیات اور مالی و ذہنی پسماندگی سے بھی ہے۔ بچوں کو ملک کا کامیاب شہری بنانے کے لئے ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی۔