مظفرگڑھ: مظفر گڑھ کے نزدیک پاک فوج کی ڈرون طیاروں کو گرانے کی مشقیں جاری ہیں۔ شہ سوار دو ہزار آٹھ مشقوں کا مقصد فوج کو جدید دور کے جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور مختلف دستوں کے درمیان میدان جنگ میں رابطوں کو مربوط اور مستحکم بنانا ہے۔ ان مشقوں میں پاک فوج کے آرمرڈ کور، انفنٹری، آرٹیلری، ائیرڈیفنس اور آرمی ایوی ایشن کے دستے حصہ لے رہے ہیں۔ مشقوں کے حتمی مرحلے کے دوران دشمن کا فرضی علاقہ بناکر بھتر گھنٹے تک فوجی آپریشن کیا گیا۔ رات کے وقت کئے جانے والے آپریشن میں زمین دستوں نے ہلکے اور بھاری توپ خانے کی مدد سے دشمن کے علاقے پر قبضہ کرنا تھا۔
مشقوں کا سب سے اہم مرحلہ بریک آوٴٹ تھا جس میں کمانڈوز نے عارضی پلوں، ٹینکوں اور بھاری اسلحے کی مدد سے دشمن پر مختلف اطراف سے بھرپور حملہ کرنا اور کاری ضرب لگا کر دشمن کو پیچھے ھکیلنا تھا۔ آپریشن کے دوران زمینی دستوں کو آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے۔ ان جنگی مشقوں میں پاک فوج کے تین ڈویڑنزنے حصہ لیا۔ اقتصادی بحران کے پیش نظر مشقوں میں کم سے کم وسائل استعمال کئے گئے۔ کور کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے جنگی مشقوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فوج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لئے سال دو ہزار نو کو فوجی جوانوں کی تربیت کا سال قرار دیا گیا ہے۔ان مشقوں کے ذریعے سال کے آخر پر تربیتی معیارات کا جائزہ لیا جاتا ہے یہ فوجی مشقیں اتوار تک جاری رہیں گی۔