|
موجودہ عدالتی نظام اسلامی تعلیمات پرمبنی ہے، چیف جسٹس
اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ گڈگورننس کیلئے انصاف پر مبنی نظام ضروری ہے، عدالتی فیصلے قانون کے مطابق اور بغیر کسی خوف و لالچ کے ہونے چاہئیں۔اسلام آباد میں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل پالیسی آزاد عدلیہ کو مستحکم کرے گی،اس پالیسی کے تحت عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عدالتی نظام اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے ،اسے زیادہ منظم اور شفاف بنانا ہوگا،قومی عدالتی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ،جوڈیشل پالیسی ایسا روڈ میپ مہیا کرے گی جس سے عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ کی نظر میں امیر اور غریب یکساں ہیں ،تمام لوگوں کو برابری کی بنیاد پر انصاف فراہم کرنے کا تہیہ کررکھا ہے اور اس مقصد کیلئے ہمیں سخت اور خود احتسابی کا نظام قائم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں اب بھی اسی ہزار مقدمات زیر التواء ہیں،مقدمات کے التواء کی بڑی وجہ عملے کی کمی ہے۔ حکومت عدالتوں میں عملے کی کمی پوری کرنے کیلئے فنڈز فراہم کرے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین ایسی دستاویز ہے جو قوم کو متحد رکھ سکتی ہے۔ |